1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

جنوبی کوریا میں ایشیا کا اہم ترین فلم فیسٹیول

جنوبی کوریا کے بندرگاہی شہر بوزان میں جمعرات سے انتہائی اہم سمجھے جانے والے فلمی میلے کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس برس بوزان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول اپنی بیسویں سال گرہ منائے گا۔

بوزان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کی ڈائریکٹر کانگ سو ایون کا اس اجتماع کے بارے میں کہنا ہے، ’’دنیا بھر کے فلم ساز ایشیائی سنیما اور اس کی صلاحیتوں کی جانب رجوع کر رہے ہیں۔ وہ ہماری مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے وہ مزید کہتی ہیں: ’’بوزان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول نے ہمیشہ ایشیائی سنیما کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور اس براعظم میں موجود صلاحیتوں اور فن کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

اس برس اس دس روزہ میلے کا آغاز بھارتی فلم ’’زبان‘‘ سے ہوگا جس کی ہدایت کاری موزیز سنگھ نے کی ہے۔ یہ ان کی پہلی فلم ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ بوزان فلم فیسٹیول کا کرٹن ریزر بالی وڈ کی کسی فلم سے کیا جا رہا ہے۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ یہ خوش گوار بات ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’’ہماری یہی کوشش تھی کہ جتنی اچھی فلم بنا سکیں بنائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دکھا سکیں۔ بوزان ’’زبان‘‘ کو یہ موقع فراہم کر رہا ہے۔‘‘

یہ فلم ایک ایسے نوجوان کی کہانی پیش کرتی ہے، جو جدید بھارتی معاشرے میں اپنے کردار کو موسیقی کے ذریعے زبان دینے کی کوشش کرتا ہے۔

''اس فلم فیسٹیول نے ہمیشہ اچھوتے کام کیے ہیں اور نئے فلم سازوں اور ہدایت کاروں کو پروموٹ کیا ہے۔‘‘

بوزان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے بیسویں ایڈیشن میں پچھہتر ممالک سے تین سو چار فلمیں پیش کی جائیں گی، جن میں چورانوے ورلڈ پریمپیئرز ہیں۔

یہاں مشہور فلمی ستاروں کی بھی آمد ہوگی۔ ان میں ایشیائی فلموں کے سپر اسٹارز، جیسے کوریا کے ین جی ہیون، چین کے تانگ وے اور تائیوان کے چانگ چین بھی ریڈ کارپیٹ پر جلوہ افروز ہوں گے۔ ہالی وڈ سے ہاروی کی ایٹل اور ٹلڈا سوئنٹن اور یورپ سے سوفی مارسو اور ناٹاسیا کِنسکی بھی فیسٹیول میں شریک ہوں گے۔

ایشیا کی بڑی فلم مارکیٹوں، چین، جاپان، بھارت، جنوبی کوریا، تائیوان اور انڈونیشیا کی آمدنی پچھلے برس پہلی مرتبہ شمالی امریکا کی فلم مارکیٹوں سے زیادہ تھی۔ موشن پکچر ایسوسی ایشن آف امیریکا کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس ایشیائی آمدنی دس اعشاریہ پانچ بلین ڈالر تھی جب کہ شمالی امریکا کی فلموں کی آمدنی دس اعشاریہ چار بیلن ڈالر تھی۔