1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی کوریا: بدکلام فوجیوں کے لئے تربیتی مہم

جنوبی کوریا کی فوج حریف کمیونسٹ شمالی کوریا کی فوج کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے کے علاوہ ایک اور منصوبہ بھی بنا رہی ہے: اپنے نوجوان سپاہیوں کی طرف سے گندی زبان کے استعمال کے خلاف منصوبہ۔

default

جنوبی کوریا کا ایک فوجی مارشل آرٹس کی تربیت کے دوران

سیئول میں جنوبی کوریائی خبر رساں ادارے یون ہاپ کے مطابق ملکی فوج نے ان رپورٹوں کی تصدیق کر دی ہے کہ نوجوان فوجیوں کی طرف سے گالی گلوچ اور گندی زبان کے استعمال کے تدارک کے لئے ایک باقاعدہ مہم کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

جنوبی کوریائی وزیر دفاع کم تائے یُنگ نے ایک حالیہ پالیسی اجلاس میں یہ حکم دیا کہ ملکی فوج کے نوجوان سپاہیوں کی طرف سے ’مناسب زبان‘ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کی تربیت پر اضافی توجہ دی جائے۔

Flash-Galerie Korea Krieg 1950 1953

سیئول میں کوریائی جنگ کی ایک یادگار

یون ہاپ کی رپورٹوں کے مطابق اس اجلاس میں یہ کہا گیا کہ محدود عرصے کے لئے لازمی فوجی خدمت انجام دینے والے یہ نوجوان سپاہی، جب بائیس چوبیس برس کی عمر میں فوج سے رخصتی کے بعد سول معاشرے کا حصہ بنیں گے، تو انہیں یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ بد کلامی کریں اور شہری زندگی میں بھی بات بات پر گندی گالیاں دیتے رہیں۔

’’یہ فوجی کوئی ایسے ٹین ایجر نہیں ہیں، جنہیں کچھ پتہ نہ ہو۔ انہیں لازمی طور پر اپنی زبان اور لفظوں کے انتخاب کو صاف ستھرا بنانا ہو گا۔‘‘ اس کے برعکس ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے یہ شکایت بھی کی کہ مسئلہ یہ نوجوان نہیں بلکہ وہ عسکری ماحول ہے، جو نوجوان فوجیوں کی طرف سے آپس میں گندی زبان کے استعمال کو برداشت کرتا ہے۔ اس فوجی افسر نے کہا: ’’غلط زبان ’فوجی کلچر‘ کاحصہ بن چکی ہے۔ اسی لئے اس عادت سے چھٹکارا قدرے مشکل لگتا ہے۔‘‘

Karte Korea nach dem Krieg Flash-Galerie

شمالی اور جنوبی کوریا کے مابین فائر بندی لائن

جنوبی کوریا کی فوج چھ لاکھ 55 ہزار فوجیوں پر مشتمل ہے اور وہاں صحت مند جسم اور ذہن کے حامل ہر مرد شہری کو لازمی طور پر دو سال کے لئے فوجی خدمت انجام دینا ہوتی ہے۔

1950سے لے کر 1953 تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ کے بعد سے دونوں کوریائی ریاستیں تکنیکی حوالے سے آج بھی حالت جنگ میں ہیں۔ تب عمل میں آنے والی فائر بندی کے بعد سے آج تک سیئول اور پیونگ یانگ کے مابین کوئی باقاعدہ جنگ بندی معاہدہ ابھی تک طے نہیں پا سکا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس