1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی کوریا اور امریکہ متفق: شمالی کوریا کا جوہری پروگرام قبول نہیں

شمالی کوریا کے جوہری تجربے کے بعد جنوبی کوریا کے صدر کا دورہٴ امریکہ غیر معمُولی اہمیت کا حامل تصور کیا گیا ہے۔ دونوں صدور، کمیونسٹ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے یکسان نکتہ نظر رکھتے ہیں۔

default

امریکی اور جنوبی کوریائی صدور کی ایک فائل فوٹو

امریکی صدر باراک اوباما اور ان کے جنوبی کوریائی ہم منصب لی میونگ بَک نے کہا ہے کہ کمیونسٹ شمالی کوریا کو اپنا ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام لازمی طور پر ترک کرنا ہوگا اور پیونگ یانگ جس بحران کو ہوا دے رہا ہے، اس کے جواب میں کسی انعام کی توقع نہیں کی جانا چاہئے۔

جنوبی کوریائی صدر کے دورہٴ امریکہ کے دوران واشنگٹن میں امریکی صدر اوباما کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ طور پر یہ موقف اختیار کیا کہ شمالی کوریا کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کے حوالے سے واشنگٹن اور سیئول کا نقطہ نظر ایک ہے۔

G 20 Gipfel in London Barack Obama Südkorea Präsident Lee Myung-bak.jpg

امریکی صدر اوباما اور جنوبی کوریا کے صدر کی ایک اور فائل فوٹو

وائٹ ہاؤس میں منگل کی شام صدر لی میونگ بَک کی موجودگی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر اوباما نے کہا کہ کمیونسٹ کوریا اگر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے اپنے مق‍اصد میں کامیاب ہو گیا تو یہ پیش رفت پوری دنیا کے لئے شدید خطرات کا باعث ہو گی۔ اسی لئے اقوام متحدہ کی طرف سے حال ہی میں منظور کردہ نئی لیکن سخت پابندیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا جن کا مقصد شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے ہر قیمت پر روکنا ہے۔

باراک اوباما کے مطابق جس طرح شمالی کوریا مسلسل اپنے ہمسایہ ملکوں کو دھمکیاں دے رہا ہے، وہ لہجہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ اگر پیونگ یانگ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں کامیاب ہو گیا تو یوں نہ صرف پورے خطے کا استحکام خطرے میں پڑ جائے گا بلکہ امریکہ اور پوری دنیا کی سلامتی بھی شدید نوعیت کے خطرات کا شکار ہو جائے گئی۔

Vor 60 Jahren entstand das kommunistische Nordkorea 3

شمالی کوریا کے لیڈر کی تصور پیونگ یانگ سے کچھ عرصہ قبل جاری کی گئی تھی۔

شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے باراک اوباما نے کہاکہ وہ اور صدر لی اس بارے میں قطعی طور پر ہم خیال ہیں کہ جزیرہ نما کوریا کو مکمل طور پر ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ہونا چاہئے۔ امریکہ جمہوریہ کوریا کے دفاع کا تہیہ کئے ہوئے ہے اور واشنگٹں اور سیئول کے مابین تعاون کی بنیاد دیرپا اتحاد پر ہے۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ بات چیت میں اُن اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جو خِطے میں رُوس، چین اور جاپان جیسے پارٹنر ملکوں کے ساتھ مل کر کئے جارہے ہیں۔ اوباما کے نزدیک اِن تمام اقدامات کا مقصد شمالی کوریا پر یہ واضح کرنا ہے کہ وہ دھمکیوں اور غیر قانونی ہتھیاروں کے ذریعے اپنے لئے نہ تو عزت حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی سلامتی کا احساس۔

اس موقع پر جنوبی کوریا کے صدر نے کہا کہ سلامتی کونسل نے گذشتہ ہفتہ کمیونسٹ کوریا کے خلاف جو نئی سخت پابندیاں منطور کیں ہیں، وہ اس امر کا ثبوت ہیں کہ عالمی برادری پیونگ یونگ کو اُس کے ارادوں سے باز رکھنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔