1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی کوریا: اسکینڈل میں ملوث خاتون کی بیٹی ڈنمارک میں گرفتار

ڈنمارک پولیس نے جنوبی کوریا کی حکومت کو ہلا کر رکھ دینے والے اسکینڈل میں ’ملوث‘ خاتون کی بیٹی کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس اسکینڈل کی وجہ سے ہی چند روز پہلے اس ملک کی خاتون صدر کو اپنے تمام تر اختیارات سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

جنوبی کوریا کی بیس سالہ چونگ یو را کو ڈنمارک میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جنوبی کوریائی حکام نے کرپشن کے ایک اسکینڈل میں اس نوجوان لڑکی کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے تھے۔ گرفتار ہونے والی لڑکی کی والدہ چوئی سُون سِل  جنوبی کوریائی حکومت کو ہلا دینے والے کرپشن اسکینڈل کی مرکزی کردار ہیں۔ گرفتار ہونے والی اس لڑکی پر الزام ہے کہ اس نے اپنے تعلیمی ریکارڈ کے حوالے سے ’مجرمانہ مداخلت‘ کا ارتکاب کیا ہے۔

Südkorea Protest gegen Präsidentin Park Geun Hye & Forderung nach Rücktritt (Reuters/K. Hong-Ji)

پارک کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا

چوئی سُون سِل جنوبی کوریا کی سابق خاتون صدر پارک گن ہے کی دوست بھی ہیں۔ اسی وجہ سے پارک کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس کے بعد نو دسمبر کو اس خاتون صدر کے خلاف حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد بھی کامیاب ہو گئی تھی اور صدر کے تمام تر اختیارات کو معطل کر دیا گیا تھا۔ 64 سالہ پارک جنوبی کوریا کی وہ پہلی جمہوری صدر تھیں، جنہیں اپنی مدت اقتدار ختم ہونے سے پہلے یہ آفس چھوڑنا پڑا۔

جنوبی کوریا: صدر کے اختیارات منسوخ

جنوبی کوریا کی پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وہ ڈنمارک کی پولیس کے ساتھ رابطے میں ہیں اور بیس سالہ ملزمہ کی فوری طور پر حوالگی کا مطالبہ کریں گے۔ دوسری جانب ڈنمارک پولیس نے کہا ہے کہ وہ ایسی کسی درخواست کا ابھی انتظار کر رہے ہیں کیوں کہ دونوں ملکوں کے مابین ملزمان کے تبادلے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ ڈنمارک کی پولیس کے مطابق فی الحال بیس سالہ چونگ یو را کے خلاف کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔

چونگ یو را نے شہ سواری کی تربیت جرمنی سے حاصل کی ہے لیکن اسے گرفتار ڈنمارک کے شمالی شہر آلبورگ میں کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ وہاں غیرقانونی طور پر قیام پذیر تھی۔ جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کے مطابق وہ چونگ یو را کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کے سلسلے میں سرگرم ہے اور جرمن حکام سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ ملزمہ کے ٹھکانے اور اثاثوں سے متعلق معلومات فراہم کریں۔

DW.COM