1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی کوریامیں دو پاکستانیوں پرطالبان سے رابطےکا شبہ

جنوبی کوریائی پولیس نے آج سیئول میں کہا کہ جزیرہ نما کوریا کی اس ریاست میں دو غیر قانونی پاکستانی تارکین وطن سے ان کے طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ مبینہ رابطوں کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

default

جنوبی کوریا میں انچی اون شہر کی بندرگاہ

ان دنوں پاکستانی شہریوں کو پچھلے مہینے جنوبی کوریا کے جنوب مشرق میں واقع صنعتی شہر چنگ وان سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب وہاں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف ایک بڑا آپریشن کیا گیا تھا۔ سیئول میں قومی پولیس ایجنسی نے بتایا کہ یہ پاکستانی شہری پچھلے برس فروری میں ایک پاکستانی مال بردار بحری جہاز کے ذریعے جنوبی کوریا کے جنوبی بندرگاہی شہر بوسان پہنچے تھے۔

بوسان کی بندر گاہ سے یہ غیر ملکی وہاں امیگریشن حکام کی نظروں سے بچتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ جنوبی کوریائی پولیس کے مطابق یہ دونوں پاکستانی شہری فروری دو ہزار نو سے لے کر اس سال مارچ تک چنگ وان نامی شہر میں سیمنٹ کی ایک فیکٹری میں کام کرتے رہے تھے۔

Südkorea Land und Leute Seoul Panorama

جنوبی کوریائی دارالحکومت سیئول، ایک فضائی منظر

جنوبی کوریا کی قومی پولیس ایجنسی کے ایک تفتیشی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر ایجنسیAFP کو بتایا کہ ان دونوں پاکستانیوں کے مشتبہ طور پر طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ رابطوں کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

اس کی وجہ دونوں گرفتار شدگان کا یہ دعویٰ بنا کہ دوہزار سات کے آخر میں پاکستان میں طالبان نے انہیں زبردستی دس روز تک عسکریت پسندانہ کارروائیوں کی تربیت دی تھی۔ ان پاکستانیوں کے بقول اس جبری تربیت کے بعد وہ اس شدت پسند گروپ کو چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں ملک سے باہر آ گئے تھے۔

سیئول میں قومی پولیس ایجنسی کے تفتیشی اہلکار نے یہ بھی کہا کہ جنوبی کوریا پاکستانی حکومت سے رابطہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ ان دونوں غیر قانونی پاکستانی تارکین وطن کے دعووں کی تصدیق کی جا سکے۔ جنوبی کوریا ہی میں ایک علیحدہ واقعے میں پولیس نے فروری کے مہینے میں یہ بھی کہا تھا کہ ایک ایسے پاکستانی امام مسجد کے بارے میں چھان بین کی جا رہی ہے، جسے جعلی سفری دستاویزات کی وجہ سے دائےگُو کے شہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

دائے گُو کی ایک مسجد میں امام کے فرائض انجام دینے والے اس اکتیس سالہ پاکستانی نے مبینہ طور پر اپنے دوستوں کو یہ بتایا تھا کہ وہ طالبان تحریک کا رکن رہ چکا ہے۔ جنوبی کوریائی پولیس اب تک اس پاکستانی شہری کے اس دعوے کی کوئی تصدیق نہیں کر سکی۔

اس وقت دائے گُو کی مسجد کا یہ سابقہ پاکستانی امام جنوبی کوریا میں زیر حراست ہے اور اس کے خلاف تارکین وطن اور پاسپورٹ سے متعلقہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں ایک مقدمے کی سماعت ابھی تک جاری ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM