1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی کوریائی صدر کو ’ سیاسی سازباز کے اسکینڈل‘ کا سامنا

جنوبی کوریا میں صدر پارک گون ہَے کو شدید سیاسی بحران کا سامنا ہے۔ بحران کی ابتداء پر صدر نے اپنی کابینہ اور صدارتی انتظامیہ میں خاصی بڑی اکھاڑ پچھاڑ بھی کی تھی لیکن وہ اپنی عوام کی خفگی دور کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں۔

جنوبی کوریا کے دفتر استغاثہ نے واضح کیا ہے کہ منگل یا بدھ کے روز  سیاسی جوڑ توڑ اور کرپشن اسکینڈل کے تناظر میں خاتون صدر پارک گون ہَے سے ابتدائی پوچھ گچھ کا امکان ہے۔ جنوبی کوریائی نیوز ایجنسی یونہاپ کے مطابق دفتر استغاثہ نے اس سلسلے میں ایک درخواستی نوٹ صدر کے دفتر کو روانہ کر دیا ہے۔ ابھی اس درخواست کا جواب نہیں دیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اِس کرپشن اسکینڈل کے تناظر میں صدر ہَے پر عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جنوبی کوریا کی خاتون صدر پارک گن ہَے پر دباؤ بڑھنے کی وجہ عوامی احتجاجی مظاہرے ہیں۔ ان مظاہروں میں ہزاروں لوگ پارک گون ہَے پر زور دے رہے ہیں کہ وہ منصبِ صدارت سے مستعفی ہو جائیں۔

Südkorea Präsidentin Park Geun-hye entschuldigt sich (picture-alliance/dpa/E. Jones)

جنوبی کوریا میں صدر پارک گون ہَے کو شدید سیاسی بحران کا سامنا ہے

 ہفتہ بارہ اکتوبر کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کے خلاف تازہ احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ دہرایا تھا کہ وہ حکومت سے الگ ہو جائیں۔ منتظمین کے مطابق اس احتجاج میں ساڑھے آٹھ لاکھ افراد نے شرکت کی جبکہ پولیس کے مطابق یہ تعداد ڈھائی لاکھ کے قریب تھی۔

اس سیاسی اور کرپشن اسکینڈل کے شروع ہونے پر صدر پارک گون ہَے نے اپنی قریبی دوست چوئی سُون سِل کو بھی اپنے دفتر سے فارغ کر دیا تھا۔ صدر کی یہ خاتون دوست  تین نومبر سے جیل میں بند ہیں۔  چوئی سُون سِل ایک مذہبی گورو کی بیٹی ہیں جو سن 1970 کی دہائی میں خاتون صدر کی روحانی رہبری کرتے رہے تھے۔ خاتون صدر کے مذہبی گورو اور لیڈر کو مخالف گروپ نے قتل کر دیا تھا۔

چوئی سُون سِل  پر الزام ہے کہ حساس سکیورٹی کاغذات کا رسائی کے علاوہ وہ کئی کاروباری سودوں پر اثرانداز بھی ہوئی تھیں۔ ان تمام الزامات کی چھان بین جنوبی کوریا کے دفتر استغاثہ کو بیس نومبر تک مکمل کر کے فوجداری دفعات تجویز کرنا ہیں۔ صدر نے یہ ضرور کہا ہے کہ اُن کی دوست انہیں تقاریر کرنے میں مددگار اور معاونت کرتی تھیں۔ صدر اپنی یہ غلطی تسلیم کر چکی ہیں کہ انہوں نے اپنی دوست کو سکیورٹی کلیئرنس نہ ہونے کے باوجود سرکاری دستاویزات دیکھنے کی اجازت دی تھی۔