1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی کوریائی صدر کو دستوری عدالت نے عہدے سے فارغ کر دیا

جنوبی کوریا کی خاتون صدر پارک گیون ہَے کو اعلیٰ دستوری عدالت نے عہدے سے فارغ کر دیا ہے۔ اس طرح وہ اپنے ملک کی پہلی صدر بن گئی ہیں، جن کا موخذاہ کیا گیا ہے۔ خاتون صدر کو کرپشن کے الزامات کا سامنا تھا۔

پارک گن ہے کے خلاف ایک طویل عرصے سے عوامی مظاہرے جاری تھے۔ اُن پر الزام تھا کہ اُنہوں نے اپنی ایک قریبی دوست چوئی سُون سِیل کو ریاستی معاملات میں مداخلت کی اجازت اور سرکاری دستاویزات تک رسائی دی تھی۔ چوئی پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور فراڈ کے الزامات میں فردِ جرم عائد کی جا چکی تھی۔ ان الزمات کے بعد سے پارک کی عوامی مقبولیت کم ہو کر صرف چار فیصد تک آ گئی تھی۔

جنوبی کوریائی استغاثہ نے برخاست کی گئی صدر کو چوئی سِل کا ساتھی بھی قرار دے رکھا ہے۔ جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے خاتون صدر کے مواخذے کی جو قرارداد منظور کی تھی، اس میں اُن پر تیرہ الزامات لگائے گئے تھے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پارک گیون ہَے نے جمہوری اصولوں اور قانون کی حکمرانی کے منافی اقدامات کیے تھے۔

Südkorea Amtsenthebung Park Geun-Hye (Getty Images/C. Sung-Jun)

ملکی عوام خوشی کا اظہار کرتے ہوئے

جنوبی کوریا میں 1987ء سے عہدہ صدارت کی مدت ختم ہونے کے بعد تمام صدور کی تحقیقات کی جاتی رہی ہیں اور ایک صدر نے تو بدعنوانی کے الزامات کے بعد خود کشی بھی کر لی تھی۔ پارک سے پہلے جنوبی کوریا کے تین پیشرو صدور کسی نہ کسی طریقے سے بدعنوانی میں ملوث رہے ہیں۔ کم ڈائے ینگ 1988ء سے 2003ء تک ملکی صدر رہے تھے۔ ان کے دو بیٹوں کو رشوت خوری کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

 2003ء سے 2008ء تک سربراہ مملکت رہنے والے رو مو ہیون نے ایک تاجر سے چھ ملین ڈالر وصول کرنے کے الزام کی وجہ سے خود کشی کر لی تھی۔ 2004ء میں رو کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد کی کامیاب ہو گئی تھی، تاہم آئینی عدالت نے اس کے خلاف فیصلہ دے دیا تھا۔ اسی طرح 2008ء سے 2013ء تک جنوبی کوریائی صدر لی میونگ بک کے بڑے بھائی کو ساڑھے پانچ لاکھ ڈالر رشوت لینے کے جرم میں دو سال کی جیل کاٹنا پڑی تھی۔