1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی ویزرستان آپریشن اور دہشت گردانہ کارروائیاں

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ دکھنے میں آیا ہے۔ اس حوالے سے رواں ماہ انتہائی خطرناک ثابت ہوا ہے۔

default

اکتوبر میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 190سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں سے کم از کم 23 افراد صرف گزشتہ روز جمعہ کو ہلاک ہو گئے۔ جمعہ کے دن پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں باراتیوں کی ایک بس بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم سولہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حکام کے مطابق مرنے والوں میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی تھی۔

خبررساں ادارے AFP نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا کہ باراتیوں کی گاڑی ٹینک شکن بارودی سرنگ کا نشانہ بنی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ راستہ سیکیورٹی فورسز کے استعمال میں رہتا ہے۔

گزشتہ روز صبح سویرے کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کے ایک بیس کے باہر چیک پوائنٹ پر خود کش حملے میں بھی آٹھ افراد کی موت ہوئی۔ ضلعی پولیس کے سربراہ فخر سلطان کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں دو فضائیہ کے اہلکار ہیں۔ ایئرفورس کے مطابق اس کے پندرہ اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ یہ علاقہ دارالحکومت اسلام آباد سے ساٹھ کلومیٹر جنوب میں ہے۔

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے علاقے حیات آباد میں ایک کاربم دھماکے میں پندرہ افراد زخمی ہوئے۔ مقامی انتظامیہ کے اہلکار صاحبزادہ محمد انیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے دو کی حالت نازک ہے۔ سینیئر پولیس سپرینٹنڈنٹ کریم خان نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی وجہ سیکیورٹی کے محدود وسائل کو قرار دیا ہے۔

Flash-Galerie Pakistan: Flüchtlinge aus Waziristan

پاکستان میں شہری ممکنہ دہشت گردی سے خوف زدہ ہیں

حالیہ دنوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں کا نشانہ بننے والے پاکستانی شہروں میں دارالحکومت اسلام آباد بھی شامل ہے، جہاں ایسے ایک تازہ حملے میں جمعرات ایک اعلیٰ فوجی اہلکار کو قتل کر دیا گیا تھا۔ حکومت نے غیرقانونی افغان تارکین وطن کو اسلام آ باد چھوڑنے کا نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

اکتوبر کے دوران ہونے والے بیشتر دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے حملوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے کوششیں جاری رہیں گی۔

دوسری جانب سیکیورٹی حکام کے مطابق جمعہ کو ہی مختلف کارروائیوں کے دوران خیبر ایجنسی میں چار جبکہ مہمند ایجنسی میں پندرہ شدت پسند مارے گئے۔

پاکستانی فوج گزشتہ کچھ عرصے سے طالبان کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے۔ پہلے یہ کارروائیاں مالاکنڈ ڈویژن میں جاری تھیں اور اب ان کا مرکز جنوبی وزیرستان کا علاقہ ہے، جسے پاکستانی طالبان کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

یہ آپریشن گزشتہ ہفتہ کو شروع ہوا۔ پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں اب تک 142طالبان مارے جا چکے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 20 ہے۔

رپورٹ: ندیم گل

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM