1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی وزیرستان میں مبینہ ڈرون حملہ: کم ازم کم 22 ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں رواں برس کے تریسٹھویں ڈرون حملے میں بیس سے زائد مشتبہ انتہاپسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

default

پاکستانی قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں بدھ کو ہونے والے ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 22 مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ حملہ آدھی رات کے بعد ڈھائی بجے کے قریب کیا گیا تھا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اٹھارہ منٹ کے وقفے سے ایک ہی قصبے میں دو ڈرون حملوں میں اتنی ہلاکتیں ہوئیں۔

دونوں حملے ببر غر نامی مقام پر کیے گئے، جو افغان صوبے پکتیا کی سرحد سے پاکستانی علاقے میں تین کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ ببر غر کے گاؤں میں واقع پاکستانی طالبان کے دو بڑے کمپاؤنڈز کو نشانہ بنایا گیا۔ افغانستان میں صوبہ پکتیا انتہائی شورش زدہ تصور کیا جاتا ہے۔

ان ہلاکتوں کو مقامی سکیورٹی ذرائع نے رپورٹ کیا ہے۔ مبینہ ڈرون حملوں کے دوران کم از پانچ بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے فضا میں پرواز کر رہے تھے۔ ان کے ذریعے مختلف اوقات میں تقریباً دس میزائل داغے گئے۔ میزائل ڈرون طیاروں سے بیک وقت داغے گئے اور امکاناً سوئے ہوئے افراد کو بھاگنے کا موقع بھی نہیں مل سکا۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران اس ڈرون حملے کو سب سے شدید قرار دیا گیا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے مرکزی شہر وانا میں مقیم ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا ہے کہ ڈرون حملے میں قبائلی علاقے میں طالبان کی حامی ایک انتہاپسند تنظیم تحریک طالبان کے دو اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے۔ ایک تباہ ہونے والا کمپاؤنڈ طالبان کمانڈر عبدالسلام اور دوسرا ابو ناصر کے زیر استعمال تھا۔ یہ دونوں مقامات بطور تربیتی مراکز کے طور پر استعمال کیے جاتے تھے۔ ایسے اندازے لگائے گئے ہیں کہ اس حملے میں تحریک طالبان کے وہاں موجود غیر ملکی اراکین بھی مارے گئے ہیں۔

Flash-Galerie Proteste gegen US Drohnenangriffe

پاکستان میں مبینہ ڈرون حملوں کی عوامی سطح پر مخالفت کی جاتی ہے

خیال کیا جا رہا ہے کہ غیر ملکیوں میں القاعدہ اور ازبک انتہاپسند ہو سکتے ہیں۔ تباہ ہونے والے احاطوں کے بارے میں سکیورٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ سرگرم انتہاپسندوں کے لیے مختلف کارروائیوں کے بعد پناہ گاہ کے مقام بھی تھے۔ اس کے علاوہ انہی میں طالبان کمانڈرز اپنے اپنے کمپاؤنڈ میں اسلحے کا ذخیرہ بھی کرتے تھے۔

ایک روز قبل منگل کے دن شمالی وزیرستان میں ایک مبینہ ڈرون حملے میں چھ مشتبہ انتہاپسندوں کی ہلاکت کو رپورٹ کیا گیا تھا۔ منگل کا حملہ میران شاہ کے قرب میں کیا گیا تھا۔ بدھ کی شب میں کیا گیا حملہ رواں برس کے دوران کیا جانے والا تریسٹھواں حملہ ہے۔

پاکستان بھر میں مبینہ ڈرون حملوں کی عوامی سطح پر مخالفت کی جاتی ہے۔ خاص طور پر ان حملوں کو مذہبی جماعتیں اپنے جلسے جلوسوں میں ٹارگٹ کرتی ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس