1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی وزیرستان میں مبینہ امریکی میزائل حملے میں 45 ہلاک

پاکستان کےقبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک اور مبینہ امریکی میزائل حملے میں کم از کم45 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ پاکستانی انٹیلی جنس حکام کے مطابق یہ حملہ شدت پسندوں کے ایک کمانڈر کی تدفین کے موقع پر ہوا۔

default

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکہ کا اتحادی ہے۔ تاہم اسلام آباد حکومت امریکہ کی جانب سے اس کی حدود میں مبینہ میزائل حملوں کی مخالف ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ سال کے آغاز سے اب تک وہاں مبینہ طور پر 42 میزائل حملے کئے ہیں جن میں 345 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

حکومت نے جنوبی وزیرستان میں بھی آپریشن کے احکامات جاری کر دیے ہیں جبکہ فوج نے افغانستان کی سرحد کے ساتھ اس علاقے میں مقامی طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے خلاف آپریشن کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ علاقہ بیت اللہ محسود کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

صدر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان اس جنگ کو انجام تک پہنچائے گا اور محسود تو صرف ایک مہرہ ہے۔

فوج نے وادئ سوات میں سرگرم بیت اللہ محسود کے اتحادیوں کے خلاف بھی اپریل میں آپریشن شروع کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سوات آپریشن تکمیل کو ہے۔

وادئ سوات میں باضابطہ آپریشن کا آغاز اس وقت ہوا جب خطے میں طالبان کی مضبوطی کو پاکستان کی جوہری املاک کے ساتھ جوڑا گیا۔ فوج کے مطابق سوات آپریشن کے دوران تقریبا 16 سو عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔ تاہم طالبان نے پاکستان کے مختلف شہروں میں بم دھماکوں اور اپنے حریفوں کے قتل سے اس آپریشن کا جواب دیا۔

2 Miran Shah

طالبان کے خلاف جنوبی وزیرستان میں بھی عسکری کارروائی شروع ہو چکی ہے

منگل کو افغانستان کی سرحد کے ساتھ جنوبی وزیرستان میں بغیرپائلٹ کے امریکی طیارے نے مبینہ طور پر تین میزائل فائر کئے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ قبل ازیں ہونے والے ایسے ہی ایک میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے طالبان کے کمانڈر نیاز ولی کی تدفین کے بعد لوگ واپس جا رہے تھے کہ بغیرپائلٹ کے امریکی طیارے سے میزائل فائر کئے گئے۔

دوسری جانب پاکستانی فوج نے اس واقعے سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔ بیت اللہ محسود القاعدہ کا اتحادی ہے۔ اس پر 2007 میں ایک بم حملے میں سابق پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کا الزام بھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اسی علاقے میں موجود ہے۔ تاہم ابھی تک کسی حملے کی زد میں نہیں آیا۔ امریکہ محسود کی گرفتاری میں معاونت کے لئے پانچ ملین ڈالر کے انعام کا اعلان کر چکا ہے۔

منگل کو ہی پاکستان کے شمال مغربی شہر ڈیرہ اسمعیل خان میں محسود کے ایک مخالف قبائلی رہنما قاری زین الدین کو قتل کردیا گیا۔

واضح رہے کہ افغانستان کی سرحد کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صورت حال کشیدہ ہے۔ ان علاقوں کو طالبان اور القاعدہ کے باغیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جو 2001 میں افغانستان میں امریکی حملے کے بعد سرحد پار چلے آئے تھے۔

DW.COM