1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی وزیرستان: محسود قبائل کے ٹھکانوں پر بمباری

جنوبی وزیرستان میں محسود قبائل کے کئی ٹھکانوں پر بمباری کی گئی ہے جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کاخدشہ ہے۔

default

سن دو ہزار آٹھ میں لی گسی طالبان رہنما بیت اللہ محسود کی ایک تصویر

جنوبی وزیرستان میں محسود قبائل کے کئی ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کاخدشہ ہے۔ جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے خلاف جہاں سیکورٹی فورسز آپریشن کررہی ہیں وہاں بیت اللہ محسود کے مخالف دو گروپ بھی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

Pakistan Soldat im Swat-Tal

پاکستانی فوج نے آپریشن کا دائرہ وسیع کردیا ہے

ٹانک سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بیت اللہ محسود کے مخالف مولوی نذیر اور ترکستان بیٹنی گروپ ٹانک اورجنڈولہ میں نئی بھرتی کررہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ لوگ گروپ میں شامل ہونیوالے نوجوانوں کو 8ہزار روپے ماہانہ تنخواہ اوراسلحہ فراہم کررہے ہیں ان دونوں گروپوں کوحکومت کی حمایت بھی حاصل ہے۔

فاٹا کے سابق سیکرٹری اور قبائلی امور کے ماہر بریگیڈئیر ریٹائرڈ محمودشاہ کاکہناہے کہ ’’طالبان نے تواپنے شوریٰ کا اعلان کررکھاہے لیکن انکے اندر کافی اختلافات موجود ہیں ویسے بھی قبائل کو پتہ ہے کہ وزیرقبائل محسود کے ماتحتی قبول نہیں کرتے اس لیے بیت اللہ محسود جو محسود قبائل کے ہیں انکی سربراہی بھی وزیرستان کے دیگر قبائل کیلئے قابل قبول نہیں ہے اس طرح شمالی اور جنوبی وزیرستان کے بڑے قبائل اتمانزئی وزیراور احمدزئی وزیر کے درمیان بھی اختلافات موجود ہے حکومت کوآپریشن میں کامیابی کیلئے ان لوگوں کواستعمال کرناچاہیے اوراسی سے فائدہ بھی اٹھاسکتے ہیں‘‘۔

Pakistan Flash-Galerie

کشیدگی کے باعث متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی اب بھی جاری ہے

جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ محسود کے خلاف کاروائی کاآغاز ہوتے ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرکے ڈیرہ اسماعیل خان ، ٹانک اوربنوں منتقل ہورہے ہیں تاہم صوبہ سرحد کے ان اضلاع میں نقل مکانی کرنیوالوں کیلئے کوئی مناسب بندوست دیکھنے میں نہیں آیا۔

وزیرستان کے علاوہ سیکورٹی فورسز نے باجوڑ ایجنسی کے علاقے چارمنگ میں بھی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی ہے اس کاروائی میں دو کمانڈروںسمیت چھ عسکریت پسند ہلاک کئے گئے جبکہ انکے چار ٹھکانے تباہ کئے گئے ہیں۔

دوسری جانب سیکورٹی فورسز نے سوات میں متعدد علاقوں کو عسکریت پسندوں سے کلیئر قرادیاہے جبکہ کئی علاقوں میں بجلی اور گیس کی سپلائی بحال کردی گئی تاہم لاکھوں کی تعداد میں ملاکنڈ سے نقل مکانی کرنیوالے ابھی جانے کیلئے تیار نہیں ہے اورنہ ہی وہ اس آپریشن سے مطمئن نظرآتے ہیں ۔

DW.COM