1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی وزیرستان :مبینہ امریکی ڈرون حملہ

پاکستان کے شمال مغرب میں جنوبی وزیرستان کے علاقے میں مبینہ امریکی میزائیل حملے میں عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

default

پاکستانی حکومت کی جانب سے مذمت کے باوجود ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے

ایک پاکستانی خفیہ ادارے کے اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جمعرات کے روز ایک ہی وقت میں دو بغیر پائلٹ مبینہ امریکی طیاروں نے جنوبی وزیرستان میں طالبان اور القاعدہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں مقامی عسکریت پسند کمانڈر ملنگ وزیر پر تین میزائل داغے گئے۔ خفیہ ادارے کے اس اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس جگہ عسکریت پسندوں کا ٹریننگ کیمپ تھا، جسے نشانہ بنایا گیا۔

جنوبی وزیرستان کو پاکستانی طالبان اور عسکریت پسندوں کا سب سے اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ تحریک پاکستان طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود بھی اسی علاقے میں موجود ہیں۔ پاکستانی فوج سوات کے بعد جنوبی وزیرستان میں آپریشن شروع کر رہی ہے۔ دیگر ذرائع سے بھی اس میزائل حملے میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ دوسرا میزائل حملہ قریبی گاؤں میں واقع عسکریت پسندوں کےایک اور ٹھکانے پر کیا گیا تاہم اِس میزائل حملے کے مقام اور اس میں ہلاکتوں کے حوالے سے ابھی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔

پاکستان کئی مرتبہ ان میزائل حملوں کو تنقید کا نشانہ بنایا چکا ہے تاہم واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ حملے پاکستانی قیادت کے ساتھ ایک ایسے سمجھوتے کے تحت کئے جا رہے ہیں، جس کے مطابق پاکستانی حکمران غالباً ان حملوں کے بعد انہیں تنقید کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اسلام آباد حکومت ایسے کسی بھی معاہدے سے لاعلمی کا اظہار کرتی آ رہی ہے۔

امریکی موقف یہ ہے کہ افغان سرحد سے قریب واقع ان قبائلی علاقوں سے افغانستان میں موجود امریکی اور نیٹو افواج پر حملے کئے جاتے ہیں۔

پاکستان پہلے ہی ان عسکریت پسندوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کر چکا ہے اور پاکستانی فوج کے مطابق اب تک اس آپریشن میں سینکڑوں عسکریت پسندوں کا ہلاک کیا جا چکا ہے۔


رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی