1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی وزیرستان آپریشن: لڑائی میں شدت اور نقل مکانی

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان کے خلاف جاری آپریشن تیسر روز میں داخل ہوگیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ خیسور اور شاہ دونگی کے مقام پر جھڑپوں کے دوران ایک کمانڈر سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

default

سیکورٹی فورسز کے دستے حکیم اللہ محسود کے آبائی علاقے کوٹکٹی کی جانب بڑھ رہے ہیں جبکہ دوسری جانب وزیرستان سے نقل مکانی کرنیوالوں کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ چکی ہے جن میں ڈیرہ اسماعیل خان اورٹانک میں ساڑھے چودہ ہزار خاندان رجسٹرڈ کئے گئے ہیں۔

دوسری جانب حکومتی اہلکاروں نے افغانستان کے جنوبی وزیرستان سے ملحقہ علاقوں میں نیٹو فورسز کی جانب سے آٹھ چیک پوسٹوں کے خاتمے پر تشویش کااظہارکیا ہے۔ ان چوکیوں کے خاتمے سے جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن سے بھاگ کر عسکریت

Pakistan Süd-Waziristan

جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد کی رجسٹریشن

پسندوں کے افغانستان فرار ہو نے کے خدشات موجود ہیں۔

یہ بھی خدشہ ہے کہ افغان اور وہاں مقیم دیگر غیرملکی دہشت گرد انہی راستوں سے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔ یہ قدم ایسے وقت اٹھایاگیا جب فوج نے جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کاآغاز کیا۔

اطلاعا ت کے مطابق ختم کیے جانیوالی چوکیوں میں زمبل، نورخااور باجوڑ ایجنسی کے ساتھ ملحقہ افغان صوبہ نورستان کی متعدد چوکیاں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق اتحادی افواج شمالی وزیرستان کے ساتھ ملحقہ افغان علاقوں میں بھی چوکیاں کم کررہی ہیں۔

تجزیہ کار اور سکالر ڈاکٹر الطاف اللہ خان کاکہنا ہے کہ اتحادی اور امریکی افواج افغانستان کے حالات کو مدنظر رکھ کرفیصلے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، 'امریکہ ایک غیر ملک میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ ایک جنگ لڑرہاہے۔ اس کے لئے وہ جو فیصلہ کرتا ہے وہ افغانستان کومدنظررکھتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ان چیک پوسٹوں کے خاتمے سے ادھر سے ادھر طالبان یاشدت پسندوں کوآنے جانے میں آسانی ہوگی۔ لیکن میری نظر میں اگراب شدت پسندی کو پاکستان اورافغانستان میں روکنا چاہتے ہیں تو اس کاایک راستہ یہ ہوگا کہ تمام متعلقہ ممالک جن میں ایران اور سعودی عرب بھی شامل ہیں، انہیں اکھٹا کرکے ان سے بات کرنی ہوگی کہ اس کا حل کس طرح نکالنا چاہئے۔ کیونکہ یہ مسئلہ علاقائی نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے۔ اگراس آپریشن کو دیکھاجائے جو جلدی میں شروع کیاگیا اورجس کا فیصلہ بہت پہلے ہوچکا تھا اور اس سے قبل کوئی بڑی کانفرنس بلانا بھی ممکن نہیں تھا، لیکن جو بات ممکن تھی وہ پاکستان افغانستان ، نیٹو اورامریکی افواج کے ساتھ کیمونیکشن سے ممکن تھی جس میں

Pakistan Armee Offensive gegen die Taliban

پیر کو لڑائی میں آٹھ شدت پسند مارے گئے ہیں

پاکستان موجودہ حالات کو سامنے رکھ کر بات کرسکتا تھا۔ پاکستان نیٹو یا امریکی افواج کے ساتھ اس آپریشن پر بات کرسکتاتھا کہ اگر وہاں سے چوکیاں ہٹائی جاتی ہیں تو اس پر پاکستان کو کتنا نقصان ہوگا۔ اس کے جواب میں نیٹو یاتو اپنے لائحہ عمل کی وجوہات بیان کرتے یا پھر پاکستان کواس آپریشن میں مدد دینے کیلئے چوکیاں اپنی جگہ پر قائم رکھتے۔‘‘

افغانستان میں مقیم اتحادی افواج کومشرقی افغانستان میں طالبان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں صوبہ نورستان کے ضلع کامدیش میں اتحادی فوج کی دو چیک پوسٹوں پرحملے میں آٹھ امریکی اور دوافغان فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ نیٹو افواج اس دباؤ سے اپنی فوج کو دوررکھنے کیلئے کوشاں تھیں۔ تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کامقصد افغانستان میں مرکزی جنگ کو پاکستان منتقل کرنا بھی ہوسکتا ہے۔ حکام کے مطابق وزیرستان میں پانچ سے دس ہزار تک عسکریت پسند ہیں جن میں ایک سے ڈیڑھ ہزار کا تعلق ازبکستان، تاجکستان، چیچنیا، مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک سے ہے، جن کے خلاف پاکستانی فوج کے اٹھائیس ہزار فوجی فضائیہ کی مدد سے آپریشن میں مصروف ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی مرکزی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس پاکستان پہنچ چکے ہیں، جہاں انہوں نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقاتیں کی ہیں۔

رپورٹ: فرید اللہ خان، پشاور

ادارت: ندیم گِل

DW.COM