1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی لبنان کی پہاڑیوں میں چھپے خاموش قاتل

جنوبی لبنان کی سبز اور سرخ کھیتوں سے ڈھکی خوبصورت پہاڑیاں جھلسا دینے والی گرمی میں بھی انتہائی سحر انگیز دکھائی دیتی ہیں مگر گزشتہ پانچ برسوں سے ان میں کلسٹر بموں اور بارودی سرنگوں کی شکل میں موت چھپی بیٹھی ہے۔

default

علاقے کے بیشتر مکینوں کی گزر بسر کا ذریعہ زراعت ہے مگر اب موت کے خطرے کے باعث وہ اسے ترک کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ لبنان میں بارودی سرنگوں اور جنگ کی دیگر باقیات کی صفائی کرنے والی برطانوی غیر سرکاری تنظیم Mines Advisory Group کے کمیونٹی رابطہ کار افسر علی شعیب کا کہنا ہے، ’’ہر روز ہمیں گھروں اور کھیتوں کے درمیان کلسٹر بم دبے ہوئے ملتے ہیں۔ جنوبی لبنان کے درجنوں دیہات میں یہی حالت ہے۔‘‘

اگرچہ لبنان میں 1975-1990 کی خانہ جنگی اور اس کے بعد اسرائیلی قبضے کے دوران بھی بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھیں تاہم ان میں سب سے زیادہ اضافہ جولائی 2006 میں اسرائیل اور حزب اللہ کی 34 روزہ جنگ کے دوران دیکھنے میں آیا۔ لڑائی کے آخری تین دنوں میں اسرائیل کے جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان پر  40 لاکھ سے زائد کلسٹر بم گرائے تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان میں سے کم از کم چالیس فیصد نہیں پھٹ سکے اور ابھی تک انسانی جانوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

Israel Libanon Munition Vorsicht Streubombe

2006 میں اسرائیل اور حزب اللہ کی جنگ کے دوران اسرائیل کے جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان پر 40 لاکھ سے زائد کلسٹر بم گرائے تھے

جدید دور کی جنگوں میں کلسٹر بموں کو سب سے زیادہ غیر امتیازی ہتھیار تصور کیا جاتا ہے۔ غیر سرکاری تنظیم Handicap International کے مطابق کلسٹر بموں کا نشانہ بننے والے 95 فی صد افراد معصوم شہری ہوتے ہیں۔

ان کلسٹر بموں کے باعث لبنان کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ لبنانی مسلح افواج کے النبطیہ میں واقع بارودی سرنگوں کی صفائی کے مرکز کے سربراہ میجر پیئر بو مرون نے بتایا کہ جنوبی لبنان کا متاثرہ خطہ اپنی لاکھوں ڈالر آمدنی سے محروم ہو چکا ہے۔ کلسٹر بموں کے باعث صرف 2007ء میں لبنان کو زرعی آمدنی کی مد میں 126.8 ملین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

لبنان ان ملکوں میں شامل ہے جنہوں نے کلسٹر بموں کے استعمال پر پابندی سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں۔ اس کنونشن پر دستخط کرنے والے ملکوں کا رواں ہفتے لبنانی دارالحکومت بیروت میں اجلاس ہوگا جس میں 110 سے زائد حکومتوں کے نمائندوں کے علاوہ اقوام متحدہ اور دیگر تنظیموں کے مندوبین کنونشن کی ذمہ داریوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

Israelische Panzer bei Manöver in den Golan Höhen

اسرائیل نے شام کی گولان پہاڑیوں کے نزدیک بھی بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں

سرمائے کی کمی کے باوجود لبنان میں بارودی سرنگوں کی صفائی اور کلسٹر بموں کی تلاش میں کافی پیشرفت ہوئی ہے۔ بارودی سرنگوں کی صفائی کے مرکز کے سربراہ میجر پیئر بو مرون نے بتایا کہ لبنان میں بارودی سرنگوں والے لگ بھگ ایک ہزار 578 علاقوں کو صاف کر کے کے مالکوں کو لوٹا دیا گیا ہے۔  بین الاقوامی دباؤ سے مجبور ہو کر اسرائیل نے لبنان کی فوج کو ان علاقوں کے نقشے فراہم کیے جہاں کلسٹر بم گرائے گئے تھے مگر وہ اس لحاظ سے بیکار ہیں کہ ان میں اہداف کی واضح نشاندہی نہیں کی گئی۔

بارودی سرنگوں اور کلسٹر بموں کی صفائی ایک سست اور خطرناک کام ہے۔ Mines Advisory Group کے ٹیکنیکل آپریشنز مینجر ڈینئل ریڈیلنگ ہوئز نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ان کے عملے کے دو افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو چکے ہیں۔

اگرچہ بارودی سرنگوں پر پابندی عائد کرنے کی وسیع عالمی حمایت موجود ہے مگر دنیا میں سب سے زیادہ بارودی سرنگیں اور کلسٹر بم تیار کرنے اور انہیں فروخت کرنے والے تین ممالک یعنی اسرائیل، چین اور امریکہ اس کی مخالفت میں سب سے آگے ہیں۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عابد حسین

DW.COM