1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی لبنان میں تناؤ، اقوام متحدہ کی تنقید

جنوبی لبنان میں مقامی لوگوں اوراقوام متحدہ کے امن معائنہ کاروں کے مابین حالیہ تنازعہ پر سلامتی کونسل نے شدید مذمت کی ہے۔

default

جنوبی لبنان میں تعینات امن فوجی دستے

گزشتہ ہفتے مقامی لوگوں نے وہاں تعینات فرانسیسی دستوں کے ہتھیار چھین لئے اور ان کے سربراہ کو زخمی کر دیا تھا۔ سلامتی کونسل نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں تعینات غیر جانبدارانہ معائنہ کاروں کے کام میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے۔ پندرہ رکن ممالک پر مشتمل سلامتی کونسل کے بند کمرے میں ہوئےایک اجلاس کے بعد جمعہ کو ایک بیان جاری کیا گیا۔ اس بیان میں کہا گیا کہ رکن ممالک نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ جنوبی لبنان میں تعینات UNIFIL مشن کو اس کے کام سے نہ روکا جائے اور اسے اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے دیا جائے۔

جنوبی لبنان کے حالیہ تنازعہ کے بعد فرانس نے سلامتی کونسل کا ایک خصوصی اجلاس بلوانے کی درخواست کی تھی۔ سلامتی کونسل کے متفقہ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ فریقین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے خصوصی مشن کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور ان کو آزادانہ طریقے سے گشت کرنے کی اجازت دی جائے۔

UNIFIL نامی یہ مشن سن انیس سو اٹھہتر میں قائم کیا گیا تھا جبکہ سن دو ہزار چھ میں اس کی مدت میں توسیع کر دی گئی تھی۔ یہ مشن اس علاقے میں حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین تنازعہ کی نگرانی کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ فریقین کی طرف سے کوئی زیادتی نہ ہو۔

Grafik Symbolbild Franzöische Blauhelmsoldaten im Libanon UN-Soldaten UNIFIL Libanon UN-Mission Grafik UN-Fahne

UNIFIL مشن اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین فائربندی کی نگرانی کرتا ہے

اقوام متحدہ کے لئے خصوصی لبنانی رابطہ کار مائیکل ولیمز نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں گزشتہ ہفتے ہونے والے واقعات کی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منظم طریقے سے کئے گئے ہیں۔ کچھ مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ شعیہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے ممبران بھی ان واقعات میں شامل ہیں تاہم حزب اللہ ایسے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

دوسری طرف اسرائیل نے بھی اقوام متحدہ کے اس مشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مشن حزب اللہ کے گوریلا جنگجوؤں کے لئے اسلحے کی اسمگلنگ کو روکنے میں ناکام ہو چکا ہے اور اب بھی ان جنگجوؤں کے پاس اسلحہ پہنچ رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسلحہ کی اسمگلنگ کو روکنے کی ذمہ داری لبنان حکومت پرعائد ہوتی ہے۔

سلامتی کونسل نے لبنان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی سرحد سے ملحق جنوبی لبنان میں اپنے فوجی دستوں کی تعداد میں اضافہ کریں۔ دریں اثنا جمعہ کو ہی ایک اعلیٰ لبنانی کمانڈر نے ایک مقامی روزنامے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان حکومت اس متنازعہ علاقے میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھائے گی۔

جنوبی لبنان کی مقامی آبادی نے فرانسیسی دستوں پر الزام عائد کیا ہے کہ دستوں نے انہیں اشتعال دلایا، جس کے نتیجے میں ان پر حملہ کیا گیا۔ مقامی آبادی کے مطابق امن دستوں نے ان کے گھروں کے اندر تصویریں بنانے کی کوشش کی تاہم سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد فرانسیسی حکام نے تمام ایسے الزامات مسترد کر دئے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: کشور مصطفٰی

DW.COM