1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی صومالیہ، قحط کے باعث روزانہ سینکڑوں ہلاکتیں

جنوبی صومالیہ کے آٹھ میں سے چھ علاقوں میں شدید قحط کے باعث روزانہ سینکڑوں افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق رواں برس کے آخر تک یہ تمام خطہ شدید قحط کا شکار ہو جائے گا۔

default

اقوام متحدہ کے مطابق بحالی اور امدادی سرگرمیوں کے باوجود جنوبی صومالیہ کے متعدد علاقوں میں ساڑھے سات لاکھ کے قریب افراد خوراک کی عدم دستیابی کا شکار ہیں۔ پیر کے روز اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں صومالیہ کے جنوبی علاقے کو قحط زدہ قرار دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہیومینٹیرین امور کے کوآرڈینیٹر مارک بوڈن کے مطابق صومالیہ کے جنوبی حصے کازیادہ تر علاقہ قحط زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔

NO FLASH Symbolbild Hungersnot in Somalia

صومالیہ میں سینکڑوں افراد روزانہ غذائی قلت کا شکار ہو کر لقمہ اجل بن رہے ہیں

واضح رہے کہ جولائی میں صومالیہ کے متعدد علاقوں کو اقوام متحدہ نے قحط زدہ قرار دیتے ہوئے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا، تاہم یہاں سلامتی کی خراب صورتحال کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جولائی میں کہا گیا تھا کہ صومالیہ کے 53 فیصد علاقے میں مقیم چار ملین باشندےخوراک کی شدید قلت کا شکار ہیں۔

اقوام متحدہ کی تکنیکی مشیر برائے فوڈ سکیورٹی Grainne Moloney کے بقول یہاں روزانہ سینکڑوں افراد ہلاک ہو رہے ہیں، جن میں سے نصف تعداد بچوں کی ہے۔ Grainne Moloney کے بقول موثر اقدامات نہ کیے گئے تو، رواں برس کے آخر تک جنوبی صومالیہ کا پورا خطہ خوراک کی عدم دستیابی کا شکار ہو جائے گا۔

’’جنوبی خطےمیں 58 فیصد بچے غذا کی کمی کا شکار ہیں۔ یہ ایک ریکارڈ تعداد ہے۔‘‘

امدادی سرگرمیوں میں مصروف ایجنسیاں اب تک صرف ایک ملین افراد تک خوراک کی فراہمی کو یقنی بنانے میں کامیاب ہو پائی ہیں کیوں کہ جنوبی صومالیہ کا زیادہ تر حصہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند گروپ الشباب کے کنڑول میں ہے۔ یہ مسلح گروہ بین الاقوامی امدادی تنظیموں کو سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے امدادی سرگرمیوں کے کوآرڈینیٹر بوڈن کے مطابق اسی لیے بین الاقوامی ایجنسیاں یہاں خوراک اور نقد رقوم کے واؤچرز تقسیم کر رہی ہیں، جس کی مدد سے مقامی افراد خوراک حاصل کر سکتے ہیں، تاہم یہ امدادی کارروائیاں اب بھی ناکافی ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امتیاز احمد

 

DW.COM