1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی سوڈان کے لیے نئی امن فوج کی تجویز

اقوام متحدہ نے تجویز پیش کی ہے کہ جولائی میں جنوبی سوڈان کی شمالی سوڈان سے علیحدگی کے بعد قائم ہونے والی نئی خود مختار ریاست میں آئندہ ایک نئی بین الاقوامی امن فوج متعین کی جائے۔

default

یہ تجویز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اپنی ایک رپورٹ میں پیش کی ہے۔ بان کی مون کے مطابق جنوبی سوڈان کی خود مختار ریاست کے لیے عالمی ادارے کی اس نئی امن فوج میں شامل سپاہیوں کی تعداد سات ہزار تک ہونی چاہیے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی یہ تجویز ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب شمالی سوڈان اور آئندہ آزادی حاصل کرنے والے جنوبی سوڈان کے مابین ان کے باہمی سرحدی علاقے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ یہ متنازعہ سرحدی علاقہ تیل کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔

UN Generalsekretär Ban Ki Moon in New York

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون

عالمی ادارے کے سوڈان میں موجودہ امن مشن میں شامل اہلکاروں کی تعداد دس ہزار ہے۔ توقع ہے کہ UNMIS کہلانے والا یہ مشن آئندہ شمالی سوڈان ہی میں متعین رہے گا لیکن اس میں شامل فوجیوں کی تعداد میں مرحلہ وار کمی کر دی جائے گی۔ نیو یارک سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق بان کی مون نے اپنی اس رپورٹ میں یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ جنوبی سوڈان میں اس نئی امن فوج کو نو جولائی کے بعد تین مہینے تک قیام کرنا چاہیے۔ جنوبی سوڈان کی اس افریقی ملک کے باقی ماندہ حصے سے حتمی آزادی اور باضابطہ طور پر خود مختاری اسی سال نو جولائی کو عمل میں آئے گی۔

Sudan Abyei

توقع ہے کہ UNMIS کہلانے والا یہ مشن آئندہ شمالی سوڈان ہی میں متعین رہے گا

بان کی مون کی رائے میں جنوبی سوڈان کی آزادی کے بعد وہاں تین ماہ کے لیے سات ہزار فوجیوں پر مشتمل نئی امن فوج کی تعیناتی کا مقصد یہ ہو گا کہ ایک نوآزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر جنوبی سوڈان کو اپنی تشکیل نو کے لیے کافی وقت مل سکے۔ بان کی مون کے مطابق شمالی اور جنوبی سوڈان میں ان امن فوجوں کی تعیناتی سے مستقبل کے ان دونوں ہمسایہ ملکوں کو یہ موقع مل سکے گا کہ وہ اپنی باہمی سرحد کی نگرانی کے لیے کوئی قابل عمل طریقہ کار طے کر لیں اور ساتھ ہی ابھی تک متنازعہ امور کے حل بھی تلاش کر لیں۔

اقوام متحدہ کے سفارتی ذرائع کے مطابق خرطوم حکومت یہ نہیں چاہتی کہ وہاں UNMIS کہلانے والا موجودہ مشن مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ اس لیے یہ مشن اپنے فوجیوں کی تعداد میں کمی کے بعد آئندہ بھی شمالی سوڈان میں کام کرتا رہے گا۔ بان کی مون نے اپنی رپورٹ میں تجویز دی ہے کہ جنوبی سوڈان کے لیے عالمی ادارے کے اس نئے امن مشن کو UNMISS کا نام دیا جائے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس