1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی سوڈان کی علیحدگی، ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج

جنوبی سوڈان میں شمال سے علیحدگی کے سوال پر کرائے گئے ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج کے مطابق ڈالے گئے کُل ووٹوں میں سے 99 فیصد کے قریب لوگوں نے شمالی سوڈان سے علیحدگی اور ایک آزاد ریاست کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

default

یہ تاریخی ریفرنڈم 2005ء میں سوڈان کے شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کا اہم حصہ تھا، جس کے نتیجے میں افریقہ کے طویل ترین تنازعے کا خاتمہ ممکن ہوا تھا۔ نو جنوری سے شروع ہونے والے اس ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ سات دن تک جاری رہے اور 15 جنوری کو اختتام پزیر ہوئی۔

جنوبی سوڈان کے ریفرنڈم کمیشن نے اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا ہے کہ ڈالے گئے تمام ووٹوں کو شمار کرلیا گیا ہے۔ قریب چالیس لاکھ ووٹروں میں سے 98.83 فیصد نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق ٹرن آؤٹ 60 فیصد سے زائد رہا جو کہ اس ریفرنڈم کے نتائج تسلیم کرنے کے لیے ایک بنیادی شرط تھی۔

Omar el Bashir und Salva Kiir Mayardit

سوڈان کے صدر عمر البشیر اور جنوبی نیم خود مختار علاقے کے صدر سلویٰ کِیر

ان نتائج پر جنوبی سوڈان کے صدر سلویٰ کِیر نے کہا ہے کہ ان نتائج کے بعد تبدیلی رونما ہوگی جو کہ ایک کی بجائے دو ریاستوں کی شکل میں ہوگی۔ کِیر کے مطابق اس طرح سوڈان کے دونوں حصوں کے درمیان صرف آئینی تعلق قائم رہے گا۔

اس ریفرنڈم کے حوالے سے ان شبہات کا بھی اظہار کیا جارہا تھا کہ علیحدگی کے فیصلے کے بعد دونوں حصوں کے درمیان دوبارہ تنازعہ شروع نہ ہوجائے۔ تاہم سوڈان کے صدر عمر البشیر اور ان کی شمالی پارٹی نے ان شکوک کو یہ کہہ کر رفع کردیا تھا کہ وہ جنوبی سوڈان کے فیصلے کو قبول کریں گے۔

اگر تمام تر معاملات طے شدہ شیڈول کے مطابق چلتے رہے تو رواں برس جولائی تک جنوبی سوڈان ایک علیحدہ ریاست کی صورت میں دنیا کے نقشے پر نمودار ہوجائے گا۔

دوسری طرف سوڈانی دارالحکومت خرطوم میں پولیس اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ یہ مظاہرین سوڈانی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ سینکڑوں پولیس اہلکاروں نے خرطوم کے مرکزی حصے میں احتجاج کرنے والے نوجوان مظاہرین پر ہلہ بول دیا، طلبہ کو مارا پیٹا اور متعدد کو گرفتار کرلیا۔

Proteste im Sudan

جنوبی سوڈان کی اکثریتی آبادی عیسائی ہے جبکہ شمالی حصے میں مسلمانوں کی اکثریت ہے

اطلاعات کے مطابق پولیس نے دارالحکومت کے مرکزی حصے میں قائم چار یونیورسٹیوں کے داخلی دروازوں کا گھیراؤ کرلیا، طلبہ پر آنسو گیس فائر کی اور ان میں سے تین یونیورسٹیوں میں طلبہ پر تشدد کیا۔ طلبہ نعرے لگا رہے تھے کہ ’ہم سوڈان کے لیے مرنے کو تیار ہیں اور انقلاب فتح تک انقلاب‘۔

ان مظاہروں کو عوام میں بڑھتی ہوئی اس بیداری کا حصہ قرار دیا جارہا ہے جو لمبے عرصے سے برسراقتدار رہنماؤں کے خلاف تیونس اور مصر میں کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM