1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی سوڈان کی ریاستی خود مختاری: تیاریوں میں تیزی

جنوبی سوڈان میں ریفرنڈم کے سرکاری نتائج سامنے آنے اور خرطوم حکومت کی طرف سے ملک کے جنوبی حصےکی خود مختاری کو تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد اس افریقی ریاست کی تقسیم اور جنوبی سوڈان کی آزادی کی تیاریاں اور بھی تیز ہو گئی ہیں۔

default

سوڈان کی کل آبادی 42.3 ملین ہے جبکہ جنوبی سوڈان میں رائے دہی کے اہل شہریوں کی مجموعی تعداد 3.8 ملین ہے، جن میں سے، جنوری میں ہونے والے عوامی ریفرنڈم کے حتمی نتائج کے مطابق، قریب 99 فیصد رائے دہندگان نے اس امر کی واضح طور پر حمایت کی کہ جنوبی سوڈان کو ملک کے باقی ماندہ حصے سے علیٰحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی آزادی کا اعلان کر دینا چاہیے۔

اس سلسلے میں سوڈانی صدر عمر حسن البشیر نے بھی کل پیر کو یہ کہہ دیا تھا کہ خرطوم حکومت جنوبی سوڈان میں ریفرنڈم کے نتائج کو تسلیم کرتی ہے کیونکہ یہ نتائج وہاں کے عوام کی خواہشات کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسی لیے ’جنوبی سوڈان کی آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے مستقبل میں اس کے ساتھ بہتر تعلقات کی کوشش کی جائے گی‘۔

Infografik Karte Sudan Fakten und Zahlen ENG

ان نتائج پر اپنے رد عمل میں امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ اب جنوبی سوڈان کے حوالے سے فریقین کی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ ’اس تاریخی لمحے کی دیرپا ترقی کی وجہ بننے والے لمحے‘ میں تبدیلی کو یقینی بنائیں۔

اسی دوران دنیا کے کئی دیگر ملکوں کی حکومتوں نے بھی جنوبی سوڈان میں ریفرنڈم کے نتائج کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس بارے میں یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران عہدیدار کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ جنوبی سوڈان میں ریفرنڈم کے نتائج ایک تاریخی لمحے کی نشاندہی کرتے ہیں اور یورپی یونین وہاں وجود میں آنے والی نئی خود مختار ریاست کی ہر ممکن مدد کرے گی۔

کیتھرین ایشٹن نے کہا سوڈان میں تمام تر مشکلات کے باوجود عوامی رائے دہی کے قابل اعتماد عمل کی کامیاب تکمیل قابل ستائش ہے اور برسلز کی کوشش ہو گی کہ مستقبل میں جنوبی سوڈان کی نوآزاد ریاست کے ساتھ طویل المدتی اشتراک عمل کو یقینی بنایا جائے۔

Symbolbild politische Spaltung im Sudan vor der Präsidentschaftswahl Englisch

صدر البشیر نے ریفرنڈم کے نتائج کو تسلیم کر لیا ہے

دریں اثناء جنوبی سوڈان میں اس خطے کی شمالی سوڈان سے علیٰحدگی کی تیاریوں میں بھی تیزی آنے لگی ہے۔ سوڈان کے شمال میں زیادہ تر آبادی کا تعلق عرب نسل کے مسلمانوں سے ہے جبکہ جنوب میں افریقی نسل کی آبادی کی اکثریت مسیحی عقیدے کی حامل ہے۔

سوڈان رقبے کے لحاظ سے افریقہ کا سب سے بڑا ملک ہے۔ جنوبی سوڈان کی علیٰحدگی کی وجہ سے اس کی دو خود مختار ریاستوں میں تقسیم کا عمل اب تک کے پروگرام کے مطابق نو جولائی کو مکمل ہو جائے گا۔

جنوبی سوڈان کے علاقائی دارالحکومت جوبا میں حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ حتمی فیصلہ نہیں ہوا کہ مستقبل کی اس نوآزاد ریاست کا باقاعدہ نام کیا ہو گا۔ جوبا میں علاقائی رہنماؤں کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ آج سے قریب پانچ ماہ بعد وجود میں آنے والی اس نئی ریاست کا نام جنوبی سوڈان ہی رہنے دیا جائے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس