1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی سوڈان کی آزادی کا باقاعدہ اعلان ہوگیا

تقسیم سوڈان کے بعد آج نوجولائی کو جنوبی سوڈان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد مملکت کے طور پر ابھر چکا ہے۔ اعلان آزادی کے وقت دارالحکومت جبہ میں خوشی کا سماں تھا۔

default

جنوبی سوڈان کی خوشیوں میں شمالی سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے علاوہ کئی افریقی شخصیات بھی شامل ہوئیں۔ اگرچہ جنوبی سوڈان میں گزشتہ شب ہی آزادی کی خوشیاں منانے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا تاہم آج آزادی کے باقاعدہ سرکاری اعلان کے بعد کئی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

جنوبی سوڈان کی پارلیمان کے اسپیکر جیمز وانی ایگا نے جنوبی سوڈان کی آزادی کا باقاعدہ اعلان کیا۔ جیمز وانی ایگا نے آزادی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندے اس نئے ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ جیمز وانی ایگا نے جیسے ہی اپنا اعلان ختم کیا تو لوگوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی اور وہ خوشی سے ناچنے اور گانے لگے۔

Südsudan Unabhängigkeitserklärung NO FLASH

جنوبی سوڈان میں گزشتہ رات سے ہی خوشیاں منائی جا رہی ہیں


اس موقع پر سابق باغی رہنما سلوا کیر نے جنوبی سوڈان کے صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا اور ملک کے نئے آئین پر دستخط کیے۔ جنوبی سوڈان کی آزادی کے اعلان کے لیے منعقد کی گئی خصوصی تقریب میں شمالی سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر کے علاوہ اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل بان کی مون بھی جبہ میں موجود تھے۔ اس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بان کی مون نے کہا کہ اگرچہ یہ ایک مشکل وقت ہے تاہم وہ امید کرتے ہیں کہ جنوبی سوڈان کے عوام اس موقع سے فائدے اٹھاتے ہوئے علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔


بان کی مون نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ افریقہ کے سب سے بڑے ملک سوڈان کی یہ تقسیم جذباتی، اقتصادی اورسیاسی طور پر تکلیف دہ ہے لیکن وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ سوڈان کا مستقبل تابناک ہو گا اور وہ علاقائی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ جنوبی اور شمالی سوڈان کے عوام دو الگ ملکوں میں رہیں گے تاہم ان کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا رہے گا۔

Südsudan Unabhängigkeitserklärung NO FLASH

اقوام متحدہ کے سربراہ نے تقسیم سوڈان کو تکلیف دہ قرار دیا ہے

جب نئے افریقی ملک کے دارالحکومت جبہ میں جنوبی سوڈان کا پرچم پہلی مرتبہ سرکاری طور پر لہرایا گیا تو جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیر اپنے شمالی سوڈانی ہم منصب عمر البشیر کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے۔ ماضی میں خانہ جنگی کے دور میں یہ دونوں ہی ایک دوسرے کے شدید مخالف تھے۔ جنوبی سوڈان کی آزادی سے قبل ایک طویل عرصے تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 1.5 ملین افراد مارے گئے۔

جنوبی اور شمالی سوڈان کی تقسیم کے بعد بھی علاقائی سطح پر قیام امن کے بارے میں کئی سوال باقی ہیں۔ ابھی تک دونوں ممالک نے کئی اہم تنازعات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔ ان میں متنازعہ سرحدی علاقہ ایبی بھی شامل ہے، جس پر دونوں ہی اپنا حق جتاتے ہیں۔ ماہرین کے بقول دونوں ممالک کے مابین سرحدوں کے تنازعات کے علاوہ قدرتی وسائل کی تقسیم پر بھی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس