1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی سوڈان کی آزادی میں ایک دن رہ گیا

امریکی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ جنوبی سوڈان پر اس کی آزادی کے بعد پہلے سے عائد پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔ اس کے برعکس شمالی سوڈان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بلیک لسٹ سے اخراج کے لیے مزید اقدامات کرے۔

default

رواں سال جنوری میں منعقدہ ایک ریفرنڈم کے تحت اکثریتی طور پر مسیحی آبادی والے جنوبی سوڈان نے مسلم اکثریتی آبادی والے شمالی سوڈان سے علیٰحدگی کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی ریفرنڈم کے نتائج کی روشنی میں رواں ماہ کی نو تاریخ کو سوڈانی ریاست دو خود مختار حصوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس نے نو جولائی کے حوالے سے صحافیوں کو بتایا کہ امن کا قیام قریب ہے تاہم یہ ایک نازک موقع ہوگا۔

واضح رہے کہ جنوری کا ریفرنڈم 2005ء کے اس امن معاہدے کا حصہ تھا، جس کی بدولت عشروں سے جاری خانہ جنگی ختم ہوئی تھی۔ اس کے باوجود شمالی اور جنوبی سوڈان کے رہنما آبیئی کے سرحدی علاقے کا تنازعہ حل نہیں کر پائے۔

جنوبی سوڈان کے دارالحکومت کے طور پر جوبا شہر کو چنا گیا ہے، جہاں آزادی کی تقریب منعقد ہوگی۔ سوزن رائس اس تقریب میں امریکہ کی نمائندگی کریں گی۔ امریکی حکومت اس ضمن میں خاصی متحرک نظر آرہی ہے کہ جنوبی سوڈان کو مضبوط اقتصادی بنیادیں فراہم کی جا سکیں۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نے شمالی سوڈان سے اقوام متحدہ کے امن دستوں کے جبری انخلاء کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

Flash-Galerie Sudanesischer Präsident Al-Baschir

شمالی سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر

ان کے بقول خرطوم حکومت کو چاہیے کہ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے کیونکہ سرحدی علاقے میں کئی حساس تنازعات ابھی تک حل طلب ہیں۔ ’’ امریکہ اور سلامتی کونسل کے دیگر مستقل ارکان تمام سفارتی اور دیگر ذرائع کا استعمال کر رہے ہیں کہ خرطوم حکومت کو قائل کیا جائے کہ امن دستوں کو ہمیشہ کے لیے وہاں سے نکلنے پر مجبور کرنا اس کے حق میں ٹھیک نہیں۔‘‘

رائس نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اُن تکنیکی امور پر کام ہو رہا ہے کہ کس طرح 1993ء سے سوڈان کے خلاف عائد پابندیوں کا اطلاق اب جنوبی سوڈان پر نہ ہو۔ امریکہ ہی کی میزبانی میں رواں سال ستمبر میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں جنوبی سوڈان کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر غور کیا جائے گا۔ واشنگٹن حکومت گزشتہ سال ہی جنوبی سوڈان کے لیے 300 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کر چکی ہے جبکہ ستمبر میں اسی طرز کے مزید اعلانات متوقع ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM