1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی سوڈان کا دارالحکومت جنوبی کوریا تعمیر کرے گا

جنوبی کوریا کے سرکاری انتظام میں کام کرنے والے تعمیراتی ادارے نے قریب تین ہفتے بعد افریقہ میں وجود میں آنے والی نئی ریاست جنوبی سوڈان کے نئے دارالحکومت کی تعمیر کے سلسلے میں ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔

default

جنوبی سوڈان کا ریاستی نشان

سیول سے ملنے والی رپورٹو‌ں میں کہا گیا ہے کہ LH Corp نامی اس جنوبی کوریائی ادارے کا جنوبی سوڈان کی حکومت کے ساتھ ایک ابتدائی معاہدہ آج جمعرات کو طے پا گیا۔ فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس سمجھوتے کے تحت سیول حکومت ایل ایچ کارپوریشن نامی تعمیراتی فرم کے ذریعے عنقریب ہی باضابطہ طور پر خود مختار ریاستی حیثیت اختیار کرنے والے ملک جنوبی سوڈان کو اس کے نئے قومی دارالحکومت کی تعمیر سے متعلق ایک ماسٹر پلان تیار کرنے میں تکنیکی اور عملی مدد فراہم کرے گی۔

ایل ایچ کارپوریشن کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فی الحال جنوبی سوڈان کی حکومت کا مرکز سوڈان کی موجودہ ریاست کے جنوب میں واقع جوبا کا شہر ہے لیکن وہاں کی حکومت کی خواہش ہے کہ باضابطہ خود مختاری کے بعد اس ملک میں ایک نیا دارالحکومت تعمیر کیا جانا چاہیے۔

Sudan Südsudan Referendum Flash-Galerie

جنوری میں ریفرنڈم کے نتائج کے اعلان کے بعد جوبا میں خوشیاں منانے والے جنوبی سوڈانی باشندے

LH Corp کے اس بیان کے مطابق یہ ادارہ تعمیراتی شعبے میں اپنے پانچ عشروں سے بھی زائد کے تجربے اور اپنے جملہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے جنوبی سوڈان کی قومی تعمیر و ترقی میں اس کی مدد کرے گا۔ افریقی ملک سوڈان میں اس سال جنوری میں ہونے والے ایک عوامی ریفرنڈم کے نتائج کی روشنی اس ملک کا جنوبی حصہ نو جولائی کو شمالی سوڈان سے علیحدہ ہو کر اپنے باقاعدہ طور پر ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہونے کا اعلان کر دے گا۔

جنوبی کوریا کے سرکاری تعمیراتی ادارے کی طرف سے جنوبی سوڈان کے نئے قومی دارالحکومت کی تعمیر سے متعلق معاہدے کا پس منظر سیول حکومت کی یہ کوششیں ہیں کہ اس کے افریقہ کی قدرتی وسائل سے مالا مال ریاستوں کے ساتھ زیادہ قریبی تعلقات ہونے چاہییں۔ اپنی انہی کوششوں کے تحت سیول حکومت کئی افریقی ملکوں میں بہت سے امدادی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبوں پر پہلے ہی سے کام کر رہی ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس