1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی سوڈان میں نسلی تصادم، 185 افراد ہلاک

سوڈان میں، جہاں دارفور کا خونریز تنازعہ ابھی تک حل ہونے میں نہیں آ رہا، ملک کے جنوب میں متحارب نسلی گروپوں کے مابین ایسی نئی شدید جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں، جن میں مقامی حکام کے مطابق کم ازکم 185 افراد ہلاک ہو گئے۔

default

سوڈان کے ایک مسلح نسلی گروپ گروپ کے حامی

افریقی ملک سوڈان کے صوبے جونگلائی کے علاقے آکوبو میں مُوریلے اور لونُور قبیلوں سے تعلق رکھنے والے متحارب گروپوں کے مابین اس لڑائی میں جو 185 افراد مارے گئے، اُن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ آکوبو کے کمیشنر نے مغربی خبر رساں اداروں کے بتایا کہ اس جھڑپوں میں بیسیوں شہری زخمی بھی ہو گئے۔

جنوبی سوڈان مین جُوبا سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق، ان مسلح نسلی گروہوں کے مابین یہ تازہ جھڑپیں اتوار کے روز شروع ہوئی تھیں، جو کل پیر کے روز بھی جاری رہیں، اور ان میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں مکمل تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئیں۔

Flüchtlinge in Darfur Sudan

سوڈان میں تنازعات سے ہزارہا شہری بے گھر ہو چکے ہیں

آکوبو کے کمیشنر کے بقول خدشہ ہے کہ ان جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب تک کی مصدقہ اطلاعات کے مقابلے میں اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ آکوبو کے شہر میں ابھی تک شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور وہاں سے اپنی جانیں بچانے کے لئے رخصت ہونے والے شہری بڑی تعداد میں جونگلائی کے دارالحکومت Bor پہنچ رہے ہیں۔

بین الاقوامی برادری کو سوڈان میں خرطوم حکومت سے شکایت ہے کہ اس نے دارفور کے تنازعے کے حل ،اور وہاں مسلح ملیشیا ارکان کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات پر قابو پانے کے لئے ابھی تک کوئی بہت نتیجہ خیز اقدامات نہیں کئے۔ اس پس منظر میں اب جنوبی سوڈان ہی میں، متحارب نسلی گروپوں کے مابین بہت خونریز جھڑپوں میں، زیادہ تر خواتین اور بچوں پر مشتمل، کم ازکم 185 افراد کی ہلاکت پر بین الاقوامی سطح پر سخت رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ان شہری ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے جنوبی سوڈان میں حکام سے مطالبہ کیا کہ وہاں قبائلی گروپوں کے مابین نسلی تصادم کے نتیجے میں خواتین، بچوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، اور تازہ ترین خونریز واقعات کے ذمہ دار عناصر کو گرفتار کر کے انہیں سزا دلوائی جائے۔