1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی سوڈان میں جنگ اور بھوک، لوگ مسلسل ترک وطن پر مجبور

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے بتایا ہے کہ جنوبی سوڈان میں قحط، بھوک اور جنگ کی وجہ سے رواں برس کے دوران اب تک اس افریقی ملک کے بتیس ہزار باشندے سوڈان کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ جنوبی سوڈان میں جنگ اور قحط سالی کے باعث اس برس مزید ہزارہا شہری وہاں سے نقل مکانی کر سکتے ہیں۔

صرف چھ ماہ میں قحط کے باعث دو کروڑ انسانوں کی ہلاکت کا خطرہ

گزشتہ ایک صدی کے دوران دنیا کے سب سے ہلاکت خیز قحط

چار ممالک میں قحط لاکھوں بچوں کی جان لے سکتا ہے، یونیسیف

سن دو ہزار گیارہ میں سوڈان سے الگ ہو کر معرض وجود میں آنے والے ملک جنوبی سوڈان کی حکومت نے کچھ علاقوں کو قحط زدہ قرار دے دیا ہے۔ جوبا حکومت کے مطابق ایک لاکھ افراد کو  خوارک کی شدید قلت کا سامنا ہے جبکہ مزید ایک ملین قحط کا شکار ہو سکتے ہیں۔

یو این ایچ سی آر نے بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر اندازہ لگایا گیا تھا کہ جنوبی سوڈان میں اس قحط کی وجہ سے سن دو ہزار سترہ کے دوران ساٹھ ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے لیکن تازہ ترین اعداد و شمار یہ اشارہ دیتے ہیں کہ یہ مجموعی تعداد اب قبل ازیں لگائے گئے تخمینوں سے کہیں زیادہ ہو جائے گی۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، ’’رواں برس کے دوران قریب بتیس ہزار جنوبی سوڈانی باشندے ہمسایہ ملک سوڈان پہنچ چکے ہیں۔ آئندہ مہینوں کے دوران جنوبی سوڈان کے متعدد علاقوں میں خوارک کی قلت مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔‘‘ اقوام متحدہ کے اس ادارے نے اس صورتحال میں عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ جنوبی سوڈان میں اس بحرانی صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات لازمی ہیں۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق سوڈان پہنچنے والے مہاجرین طویل سفر پیدل ہی کرنے پر مجبور ہیں جبکہ ان میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ اتوار کے دن جاری کردہ اس رپورٹ کے مطابق، ’’جنوبی سوڈان سے سوڈان پہنچنے والے زیادہ تر افراد انتہائی کم خوارکی کا شکار ہیں اور اسی باعث ان کی صحت بہت خراب ہو چکی ہے۔‘‘

یو این ایچ سی آر کے مطابق جنوبی سوڈان میں اس بحران کی وجہ یہ بھی ہے کہ عالمی برادری کی طرف سے جوبا حکومت کو دی جانے والی امداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس ادارے نے سوڈان کی طرف نقل مکانی کرنے والے جنوبی سوڈانی باشندوں کی دیکھ بھال کی خاطر لگ بھگ ایک سو چھیاسٹھ ملین ڈالر کی امدادی رقوم کی فراہمی کی اپیل بھی کی ہے۔

دوسری طرف امدادی اداروں نے جنوبی سوڈان میں اس قحط کی وجہ اس ملک میں جاری خانہ جنگی کو قرار دیا ہے، جہاں سن دو ہزار تیرہ سے بحرانی صورتحال پائی جاتی ہے۔ اس خانہ جنگی کے باعث نہ صرف جنوبی سوڈان میں زرعی شعبہ شدید متاثر ہوا ہے بلکہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں بھی بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔ اسی بدامنی کی وجہ سے کئی امدادی تنظیموں نے بھی اس ملک میں اپنی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق جنوبی سوڈان میں خانہ جنگی کے باعث اب تک مجموعی طور پر تین لاکھ تیس ہزار شہری سوڈان کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

DW.COM