1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی سوڈان ایک آزاد ملک بن گیا

جنوبی سوڈان باقاعدہ طور پر دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک کے طور پر ابھر آیا ہے۔ جنوبی سوڈان کی آزادی رواں برس کے آغاز پر ایک ریفرنڈم کے نتیجے میں عمل میں آئی، جس کے تحت جنوبی سوڈان کو شمالی سوڈان سے آزادی ملی۔

default

طویل خانہ جنگی کے بعد سن 2005ء میں طے پانے والے امن معاہدے کے تحت رواں برس جنوری میں سوڈان میں ایک ریفرنڈم منعقد کرایا گیا تھا، جس میں عوام سے جنوبی سوڈان کی آزادی کے حوالے سے رائے مانگی گئی تھی۔ اس ریفرنڈم میں 99 فیصد عوام نے جنوبی سوڈان کی آزادی اور خود مختاری کے حق میں رائے دی تھی۔

جنوبی سوڈان کے باقاعدہ طور پر آزادی کے اعلان سے ایک روز قبل ہی خرطوم حکومت نے جنوبی سوڈان کو ایک الگ ملک کے طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ حکام نے کہا تھا کہ جنوبی سوڈان کی آزادی باقاعدہ طور پر آٹھ اور نو جولائی کی درمیانی شب عمل میں آئے گی، جبکہ آزادی کے حوالے سے باقاعدہ تقریبات آج ہفتے کے روز منعقد ہوں گی، تاہم جنوبی سوڈان میں جشن کا سماں کئی روز سے جاری ہے، جس میں جمعے کے روز پوری شدت سے عوامی جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔

Südsudan Unabhängigkeitserklärung

جنوبی سوڈان میں جشن کا سماں ہے

مسیحی اکثریت کے حامل جنوبی سوڈان کے جمہوریہ جنوبی سوڈان بننے کے موقع پر ملک بھر میں گھنٹیاں بجائی گئیں۔ حکومتی بیان کے مطابق اعلان آزادی کی باقاعدہ تقریب کا آغاز عالمی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجکر 45 منٹ پر ملکی پارلیمان میں اسپیکر جیمز وانی ایگا کے بیان سے ہو گا۔ اس تقریب میں باقاعدہ طور پر جمہوریہ جنوبی سوڈان کا پرچم بھی لہرایا جائے گا۔

خرطوم حکومت، انتہائی کم ترقی یافتہ مگر تیل کی دولت سے مالا مال جنوبی سوڈان کو ایک علیحدہ ملک کے طور پر تسلیم کرنے والی پہلی حکومت تھی۔ تاہم سیاسی ماہرین کے مطابق افریقہ کے سب سے بڑے ملک سوڈان کی اس پرامن تقسیم کے باوجود شمالی اور جنوبی سوڈان کے درمیان تناؤ کی کیفیت کو ختم ہونے میں شاید طویل عرصہ درکار ہو، کیونکہ دونوں ہی ممالک کے رہنما ابھی تک ان دونوں ریاستوں کے درمیان حتمی سرحد کے تعین میں ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے قدرتی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کا مسئلہ بھی حل نہیں ہو پایا ہے۔ تیل کی فروخت دونوں ہی ممالک کی معیشتوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس