1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

جنوبی ایشیا کے غرباء کی صحت اور جیب خطرے میں

جنوبی ایشیا میں صحت عامہ سے متعلق ایسا بحران سر اٹھا رہا ہے جس کے سبب نہ صرف خطے کے مختلف ممالک میں شہریوں کی صحت گر رہی ہے بلکہ ان کی اقتصادی صورتحال بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔

default

عالمی بینک نے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق جنوبی ایشیا میں امراض قلب، موٹاپا اور ذیابیطس سے متعلق امراض میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں بنگلہ دیش، بھارت، نیپال، پاکستان، افغانستان، مالدیپ، بھوٹان اور سری لنکا کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چونکہ ان ممالک میں صحت عامہ کے شعبوں کو اتنی حکومتی سرپرستی حاصل نہیں کہ عوام کو مفت یا سستا علاج میسر ہو، اسی لیے مہنگے علاج معالجے کی وجہ سے عوام کی اکثریت پر بھاری مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔

Flash-Galerie frau macht Dehnungsuebungen

طبی ماہرین کے مطابق ورزش کو معمول بناکر بہت سے بیماریوں کا راستہ روکا جاسکتا ہے

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ خطے کے کچھ ممالک معاشی خوشحالی کی جانب گامزن ہیں تاہم عوام کی اکثریت اس خوشحالی کے ثمرات سے محروم ہے اور شہریوں کو صحت بخش غذا اور صاف ستھرے ماحول جیسی بنیادی ضروریات زندگی حاصل نہیں۔ بتایا گیا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک میں اوسط بنیادوں پر لوگوں کو دل کا پہلا دورہ 59 سال کی عمر میں پڑتا ہے مگر جنوبی ایشیا میں یہ اوسط 53 سال ہے۔

امراض قلب جنوبی ایشیا میں 15 تا 69 سال کے شہریوں کی قدرتی موت کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ اسی عمر میں قدرتی موت کی دیگر وجوہات میں ٹی بی اور ماں و بچے کی صحت سے متعلق مسائل شامل ہیں۔

ورلڈ بینک میں صحت عامہ کے شعبے سے متعلق سینئر عہدیدار مائیکل اینگل گاؤ کے بقول، ’’اس غیر منصفانہ بوجھ کی وجہ سے بالخصوص غریب لوگ، دل کے دورے کے بعد زندگی بھر کے لیے غربت کے ایسے جال میں پھنس جاتے ہیں، جہاں انہیں اپنی تمام جمع پونجی علاج معالجے پر خرچ کرنا پڑتی ہے اور پھر بھی اُن کے طویل عرصے تک صحت مند ہوکر دوبارہ کمانے کے قابل ہونے کے امکانات کم رہتے ہیں۔‘‘

BdT Indien Raucher mit Zigarette

بھارت میں ہر پانچ میں سے ایک مرد کی ہلاکت کا سبب تمباکو نوشی ہے

رپورٹ کے مطابق خطے کے غرباء میں بہتر خوراک کی کمی کے سبب کم وزن والے بچوں کی پیدائش عام ہے، جو اِن بچوں کے اُن امراض میں مبتلا ہونےکا ایک بنیادی سبب ہے، جو چُھوت کے اَمراض نہیں ہوتے۔

رپورٹ میں خطے کے تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ صحت بخش طرز زندگی کی جانب بڑھیں۔ اس ضمن میں بالخصوص سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی اور روزانہ کی بنیاد پر ورزش کی عادت کے فروغ کا مشورہ دیا گیا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM