1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیا کے حالات پر جرمن پریس کا جائزہ

جرمن زبان کے اخبارات نے گزشتہ ہفتے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں اور بھارتی پارلیمان میں خواتین کی نشستوں سے متعلق قانون پر کیا لکھا؟ جنوبی ایشیا کے حالات و واقعات پر ایک ہفتہ وار جائزہ۔

default

اخبار Tageszeitung لاہور میں خفيہ پوليس کی عمارت پر بم حملے کے بارے ميں لکھتا ہے:

فوجی لحاظ سے بڑی حد تک يہ غير اہم حملہ ايک پيغام سمجھا جاسکتا ہے۔ عسکريت پسند اس حملے کے ذريعے يہ دکھانا چاہتے ہيں کہ وہ پاکستان کے سلامتی اور تحفظ کے انتظامات پر اب بھی کاری ضرب لگانے کی صلاحيت رکھتے ہيں۔ مگر درحقيقت پاکستانی طالبان دفاعی پوزيشن ميں آچکے ہيں۔ پچھلے سال اکتوبر ميں جنوبی

Anschlag in Lahore Pakistan

پاکستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ ہفتے پے درپے دہشت گردانہ حملے ہوئے

وزيرستان ميں اُن کے خلاف فوج کے حملے کے آغاز کے بعد سے طالبان جنگجو راہ فرار اختيار کئے ہوئے ہيں۔ تحريک طالبان پاکستان کو اب کمزور سمجھا جاتا ہے۔ اس سال کے آغاز ميں امريکی خفيہ سروس کے بغير عملے کے جاسوس ڈرون طيارے نے پاکستانی طالبان کے قائد کو ہلاک کرديا۔ پچھلے چند ماہ کے اندر مارے جانے والے يہ طالبان کے دوسرے سربراہ تھے۔ اطلاعات کے مطابق اس کے بعد سے ، پاکستانی طالبان کی قيا دت کے لئے کئی مخالف گروپوں ميں جھڑپيں ہو چکی ہيں۔

اخبار Neue Zürcher Zeitung رقم طراز ہے:

پاکستان نے گزشتہ ہفتوں کے دوران طالبان کے قائدين کے گرد شکنجہ تنگ کرديا ہے۔ اُن کے کئی چوٹی کے رہنماؤں کو کراچی ميں گرفتار کرليا گيا ہے۔ تاہم گرفتاريوں کی اس لہر نے جوابات فراہم کرنے سے زيادہ کئی نئے سوالات پيدا کئے ہيں۔ مغربی ملکوں ميں پايا جانے والا يہ خيال متنازعہ ہے کہ پاکستان اب طالبان کے خلاف جنگ ميں زيادہ سنجيدہ ہوگيا ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ بہت سے ايسے طالبان رہنماؤں کو حراست ميں ليا گيا ہے جنہيں طالبان کے،اعتدال پسند اور مذاکرات کے حامی بازو ميں شامل سمجھا جاتا ہے۔ ان ہی ميں ملا عبدالغنی برادر بھی ہيں جن کے بارے ميں بتايا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے قائد ملا عمر کے نمائندہء اعلی کی حيثيت سے ، قيام امن کے لئے افغان حکومت سےخفيہ مذاکرات کررہے تھے۔ قياس کيا جاتا ہے کہ پاکستان نے ملا برادر کو اس لئے گرفتار کيا ہے تاکہ پاکستان،اپنے ہمسايہ افغانستان کے مستقبل کے سلسلے ميں بات چيت ميں فيصلہ کن فريق کے طور پر حصہ لے سکے۔

Protest gegen Benachteiligung

بھارتی پارلیمان میں خواتین سے متعلق ایک قانون منظور کیا گیا

اب ايک نظر بھارت پر جہاں پارليمنٹ کے ايوان بالا نے عالمی يوم خواتين کے موقع پر ملکی آئين ميں ترميم کی منظوری دی ہے جس کے مطابق ايوان زيريں اور صوبائی اسمبليوں ميں 33 فيصد نشستيں خواتين کے لئے مخصوص ہوں گی۔ اخبار Neues Deutschland لکھتا ہے کہ يہ ترميم بھارت ميں خواتين کو يکساں حقوق دينے کی راہ ميں ايک اہم قدم ہے۔ اخبار مزيد لکھتا ہے کہ اس طرح بھارت ميں سياسی قواعد ميں ايک ايسی تبديلی آئے گی جو اس سے پہلے کبھی نہيں آئی تھی۔ اس کے حاميوں کا کہنا ہے کہ ترميم ميں بہتری کی راہ ہميشہ کھلی رہے گی۔ اس طرح خواتين کی سياسی فيصلوں ميں شموليت، سماجی اور اقتصادی زندگی ميں اُن کی شرکت ،اپنے مطالبات کو منوانے کے لئے اُن کی صلاحيت اور اُن کے مساوی حقوق کی صورتحال بہت بہتر ہوجائے گی۔

رپورٹ : شہاب احمد صدیقی

ادارت : افسر اعوان

DW.COM