1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیا کے حالات پر جرمن اخبارات کی آراء پر مشتمل جائزہ

جرمنی کے سابق چانسلر ہیلموٹ شمٹ نے لندن کی افغانستان کانفرنس کے حوالے سے ہفت روزہ Die Zeit ميں علاقے کی صورتحال کا ايک تجزيہ کيا ہے۔

default

وہ پاکستان کے بارے میں لکھتے ہيں: ’’پاکستان داخلی سياسی اعتبار سے کمزور ہے اور اس پر فوجی آمر حکومت کرتے رہے ہيں۔ فوجی قيادت اس نظريے کے ساتھ پروان چڑھی ہے کہ بھارت اُس کا سب سے بڑا حريف ہے۔ افغانستان کو نظر انداز کرتے ہوئے اُسے ايک پسماندہ علاقہ سمجھا جاتا رہا۔ اس کے برعکس فوج کی جونيئر

Helmut Schmidt Porträt

سابق جرمن چانسلر ہیلموٹ شمٹ

قيادت،بالخصوص خفيہ اداروں ميں صورتحال کم از کم غير واضح ہے اور اس کا بہت مشکل ہی سے اندازہ لگايا جا سکتا ہے۔ پاکستانی خفيہ اداروں کے بعض حلقے امريکہ اور طالبان دونوں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہيں۔ طالبان شروع ميں پاکستان ہی کی تخليق تھے۔ پاکستان کی اندرونی غير مستحکم صورتحال کی وجہ سے افغانستان کی سلامتی کا انحصار وہاں بڑی تعداد ميں مغربی افواج کی موجودگی پر ہوگا۔ وسطی مدت کے اعتبار سے يہ پاکستان کے لئے ايک بہت بڑا مسئلہ بن سکتا ہے کہ اُس کا ايٹمی اسلحہ بالآخر کس کے احکامات کے تحت ہوگا۔ ‘‘

سری لنکا ميں تامل باغيوں پر فوج کی فتح کے آٹھ ماہ بعد صدر مہندا راجا پاکسے کو نماياں اکثريت کے ساتھ دوبارہ منتخب کرليا گيا ہے۔ اخبار Berliner Zeitung لکھتا ہے: ’’سری لنکا کو دو ميں سے ايک کا انتخاب کرنا تھا، ايک تو معلوم برا انتخاب راجا پاکسےکا اور دوسرا ايک نا معلوم برا

Sri Lanka Wahlen Präsident Mahinda Rajapaksa wiedergewählt

سری لنکا کے صدر مہندا راجا پاکسے

انتخاب سابق فوج کے سربراہ فونسيکا کا تھا۔ بدھ سنہاليوں کی اکثريت نے راجا پاکسے کو ووٹ دئيے کيونکہ وہ کرپشن اور اقربا پروری کے باوجود انتہا پسند قوم پرست راجا پاکسے کو پسند کرتے ہيں۔ تاہم مسلم اقليت اور ہندو تاملوں کو راجا پاکسے سے کوئی اچھی اميد نہيں ہے۔ ليکن خاص طور پر اب فاتح صدر خصوصاً تاملوں کے سماجی اور سياسی مسائل کو حل کرنے کے لئے اپنی آمادگی کا ثبوت دے سکتے ہيں۔ راجا پاکسے،ایک طاقتو پوزيشن ميں ہونے کی وجہ سے آبادی کے ايک دوسرے سے دور گروپوں کے درميان قربت پيدا کرسکتے ہيں۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ وہ اس موقعے کو گنوا ديں گے۔‘‘

اخبار Badische Neue Nachrichten لکھتا ہے کہ دوبارہ منتخب ہونے والے صدر کو سنہالی اکثريت اور تامل اقليت کے مابين تنازعے کو حل کرنے کا مشکل کام انجام دينا ہے۔ دونوں قوميتوں کے درميان خليج بہت گہری ہے۔ تامل خود کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتے ہيں۔ اب تک راجا پاکسے تاملوں کو قومی دھارے ميں جگہ دينے کی صرف باتيں ہی کرتے رہے ہيں۔ اب عمل کا وقت آ گيا ہے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM