1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیا کے حالات و واقعات اور جرمن پریس کے تبصرے

جنوبی ایشیا کے بارے میں گذشتہ ہفتہ جرمن زبان کے اخبارات نے جن واقعات کا زیادہ تر اپنے تبصروں کا موضوع بنایا ان میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ سری لنکا کی صورت حال قابل ذکر رہی۔

default

بھارت نے ممبئی حملوں میں ملوث دہشت گردوں کے بارے میں ثبوت پاکستان کو مہیا کر دیئے ہیں۔ اس بارے میں جرمن اخبار Berliner Zeitung نے لکھا: دونوں ہمسایہ ملکوں کے تعلقات اتار چڑھاؤ سے عبارت ہیں۔ بھارت نے پاکستان کو ثبوت مہیا کر دیئےہیں۔ اب پاکستان کی نئی اورکمزور جمہوری حکومت کومحتاط طریقے سے قدم اٹھانا ہو گا تا کہ طاقتور فوج ناراض نہ ہوجائے۔

جنرل اشفاق کیانی اپنے پیش رو پرویز مشرف کے برعکس ایک ایسے شخص ہیں جو پسپائی اختیار کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ فوجی جرنیل رفتہ رفتہ اپنی وہ عوامی ساکھ بحال کر رہے ہیں جسے مشرف دور میں سخت نقصان پہنچا تھا۔ فوجی قیادت سیاستدانوں کی ہر چال پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ اسے علم ہے کہ فوج کے بغیر موجودہ حکومت خطرات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

جرمن دارالحکومت برلن سے شائع ہونے والا اخبار Tageszeitung لکھتا ہے: بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے پاکستان کی نو منتخب جمہوری حکومت کے خلاف الزامات غلط جگہ پر تیر برسانے کے مترادف ہیں۔ صدر زرداری نے اپنی اہلیہ بے نظیر بھٹو کی موت کے بعد اقتدار سنبھالا۔ انہیں ایک سال قبل قتل کر دیا گیا تھا۔ پاکستان میں پہلے کی طرح اب بھی ملکی سلامتی کے امور کے حوالے سے فوج کا اپنا ایک کردار ہے۔ وہ اس وقت عسکریت پسندوں کے خلاف فعال ہے اور ان کا زور توڑنا چاہتی ہے، اس سے قبل کہ یہ عسکریت پسند ممبئی حملوں جیسی کوئی کارروائی کر سکیں۔

Symbolbild deutsche Presseschau Presse

Tageszeitung مزید لکھتا ہے کہ بھارت اپنے جارحانہ الزامات کے تحت غالبا اس کوشش میں ہے کہ امریکہ کے ذریعے پاکستان پر مزید دباؤ ڈال سکے۔ فوجی دھمکیوں کی بجائے نئی دہلی اب سفارتی دباؤ میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔

سری لنکا میں حکومت کی جانب سے باغیوں کے خلا ف جارحانہ حملوں کو بین الاقوامی برادری کی ناکامی سے تعبیر کرتے ہوئے سوئٹزرلینڈ کا اخبار Neue Zürcher Zeitung لکھتا ہے: بین الاقوامی برادری جو گذشتہ کئی برسوں سے سری لنکا کی حکومت اورلبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام کو مذاکرات کی میز پر جمع کرتی رہی ہے، لگتا ہے کہ اب مایوس ہو چکی ہے۔ کولمبو میں سفارت کاروں کی وہ آوازیں ماند پڑتی جا رہی ہیں جن میں کہا جاتا تھا کہ تامل علیحدگی پسندی کے مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے۔

اخبار کے مطابق یوں نظر آتا ہے جیسے سفارت کاروں کو احساس ہو گیا ہے کہ سری لنکا کے صدر Rajapakse کبھی بھی حقیقی مذاکرات کے لئے تیار نہ تھے۔ ان کے ارد گرد سخت مؤقف رکھنے والے لوگوں نے انہیں غالبا یہ احساس دلا دیا ہے کہ یہ مسئلہ صرف دہشت گردی کا مسلئہ ہے جسے محض طاقت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔