1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیا کے حالات واقعات، جرمن پریس کی نظر میں

جرمن زبان کے اخبارات اور ان میں شائع ہونے والے جنوبی ایشیا کے حالات و واقعات سے متعلق تبصروں اور آراء کا ایک جائزہ۔

default

امریکی ٹیلی وژن ادارے کیبل نیوز نیٹ ورک CNN سے نشر ہونے والی دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن اور ان کے نائب ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے جرمن جریدے ’دی سائٹ‘ نے لکھا: ’’بن لادن اور الظواہری ایک دوسرے کے ہمسائے میں رہتے ہیں، لیکن کسی پہاڑی غار میں نہیں بلکہ باقاعدہ گھروں میں۔ نیٹو کے ایک اہلکار کے مطابق القاعدہ کا کوئی رکن اب کسی غار میں نہیں رہتا۔ پاکستانی حکومت کئی مرتبہ ایسے دعووں کی تردید کر چکی ہے لیکن مغربی دفاعی تنظیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ پر گیارہ ستمبر 2011 کے دہشت گردانہ حملوں کے دو سب سے بڑے مجرم پاکستان کے سرحدی قبائلی علاقے میں اس طرح رہ رہے ہیں کہ مقامی افراد کے علاوہ پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہلکار بھی ان کی حفاظت پر مامور ہیں۔ بن لادن اس وقت بھی چین کے ساتھ پاکستان کی سرحد سے قریب دشوار گذار پہاڑی علاقے چترال اور اس وادیء کُرم کے درمیان علاقے میں موجود ہیں، جو افغان سرحدی علاقے تورا بورا سے زیادہ دور نہیں ہے۔‘‘

اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی پاکستان میں مبینہ موجودگی سے متعلق انہی رپورٹوں کے پس منظر میں جرمن دارالحکومت برلن سے شائع ہونے والے اخبار ’ڈیئر ٹاگَیس شپیگل‘ نے اپنے ایک تفصیلی مضمون میں لکھا کہ پاکستانی وزیر داخلہ رحمٰن ملک ان دعووں کو رد کرتے ہیں کیونکہ ان کے بقول ماضی میں بھی بار بار پاکستان پر ایسے الزامات عائد کئے جاتے رہے، جو ہمیشہ غلط ثابت ہوئے۔ Der Tagesspiegel نے لکھا کہ پاکستان کا کہنا ہے کہ اگر نیٹو کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ بن لادن اور الظواہری کہاں ہیں، تو اسے یہ معلومات پاکستان کو مہیا کرنی چاہئیں تاکہ ان مطلوب دہشت گردوں کو بلا تاخیر گرفتار کیا جا سکے۔ لیکن اس جرمن اخبار کے مطابق نیٹو کو ایسا کوئی ٹھوس اندازہ نہیں ہے کہ القاعدہ کی روپوش مرکزی قیادت کہاں ہے۔ لیکن ایسا ہو سکتا ہے کہ اسامہ بن لادن اور ان کے نائب الظواہری چترال کے پہاڑی علاقے اور وادیء کُرم کے درمیانی خطے میں کہیں موجود ہوں۔

Flash-Galerie Die Macht der digitalen Bilder

دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا سربراہ اسامہ بن لادن

افغانستان میں طالبان کے ساتھ رابطوں کے ذ‌ریعے قیام امن کی کوششوں اور ان میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے جرمن جریدے ’دی سائٹ‘ نے اپنے ایک طویل مضمون کو عنوان دیا: ’ہندو کش کے علاقے میں انتہا پسندوں کے لئے کھلا راستہ۔‘ Die Zeit نے لکھا: ’’امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے۔ اس لئے اب طالبان کے ساتھ مذاکرات ممکن ہو گئے ہیں۔ اسی سال فروری میں امریکہ اور پاکستان نے اس بات پر بڑی خوشیاں منائی تھیں کہ کراچی سے ایک اہم گرفتاری کی صورت میں طالبان کو بہت بڑی چوٹ لگا دی گئی ہے۔ طالبان کے جس مرکزی کمانڈر کو تب گرفتار کیا گیا تھا، اس کا نام ملا عبد الغنی برادر تھا۔

’’لیکن آج آٹھ ماہ بعد اسلام آباد حکومت بڑے خفیہ انداز میں ملا برادر کو دوبارہ آزاد کر چکی ہے اور ایسا بظاہر امریکہ کی درپردہ رضا مندی سے ہوا ہے۔ ایسے دعوے ایک آن لائن سروس ایشیا ٹائمز آن لائن نے بھی کئے ہیں، جس کے پاکستان میں کئی بااثر حلقوں کے ساتھ اچھے رابطے ہیں۔ امریکہ ایک طرف تو افغانستان میں طالبان پر فوجی دباؤ بڑھاتا جا رہا ہے اور دوسری طرف مبینہ طور پر سعودی عرب سے یہ درخواست بھی کی گئی ہے کہ وہ طالبان عسکریت پسندوں پر اثر انداز ہوتے ہوئے انہیں مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادہ بھی کرے۔ آج افغانستان میں قریب ڈیڑھ لاکھ غیر ملکی فوجی موجود ہیں لیکن وہ طالبان پر ابھی تک قابو نہیں پا سکے۔ دو ہزار دس افغانستان میں نیٹو کی قیادت میں بین الاقوامی حفاظتی فوج کے لئے اب تک کا سب سے خونریز سال ثابت ہوا ہے۔ ہندو کُش کی اس ریاست میں سال رواں کے آغاز سے اب تک کم ازکم 580 غیر ملکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔‘‘

’دی سائٹ‘ نے اپنے اسی مضمون میں سابق امریکی سفارت کار اور ماضی میں صدر جارج ڈبلیو بش کے ایک مشیر کے فرائض انجام دینے والے روبرٹ بلیک وِل کی اس رائے کا حوالہ بھی دیا کہ باراک اوباما کی قیادت میں موجودہ امریکی انتظامیہ کو زیادہ سے زیادہ 2011 کے موسم گرما تک یہ اعتراف کرنا پڑ جائے گا کہ اس کی افغانستان پالیسی ناکام ہو گئی ہے۔

پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر اور صوبہ سندھ کے بندرگاہی دارالحکومت کراچی میں ہدف بنا کر قتل کئے جانے کے گزشتہ دنوں کے دوران بہت زیادہ ہو جانے والے واقعات کے بارے میں سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ سے شائع ہونے والے اخبار ’نوئے سُورِشر سائٹُنگ‘ نے لکھا کہ سیاسی مقاصد کے لئے انسانی ہلاکتوں کے سلسلے نے کراچی کو ایک بار پھر اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ چند ہی روز میں مسلح افراد کے ہاتھوں بیسیوں شہریوں کا قتل ایک بار پھر یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان میں ریاستی طاقت پر اعتماد کی کتنی کمی ہے اور قانون پر عملدرآمد کا کتنا فقدان ہے۔ زیورخ کے اس اخبار نے لکھا کہ سولہ ملین کی آبادی والا شہر کراچی افغانستان میں نیٹو فوجی دستوں کے لئے سامان رسد کی فراہمی کا انتہائی اہم ذریعہ ہے اور اس حوالے سے بھی اس شہر کی صورت حال باعث تشویش ہے۔

گزشتہ ہفتہ وفاقی جرمن وزیر ‌خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے بھارت کا جو تین روزہ دورہ مکمل کیا، اس کے بارے میں بھی بہت سے جرمن اخبارات میں تبصرے شائع کئے گئے۔ جنوبی جرمن شہر میونخ سے چھپنے والے اخبار Süddeutsche Zeitung نےلکھا کہ گیڈو ویسٹر ویلے خوش ہیں۔ جرمن وزیر خارجہ کے طور پر فری ڈیموکریٹک پارٹی کے اس سربراہ اور ڈپٹی چانسلر ویسٹر ویلے کا یہ بھارت کا اولین دورہ تھا۔ اس دورے کے دوران ویسٹر ویلے

Flash-Galerie Wahlen in Afghanistan 2009

افغان مشن تقریبا دس برس سے جاری ہے

نے بار بار بھارت کے لئے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے الفاظ استعمال کئے اور اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کے لئے وزیر خارجہ کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کا پہلا سال پورا ہونے سے قبل بھارت کا دورہ کرنا کتنا اہم تھا۔ اس دوران جرمن وزیر نے یہ بات بھی متعدد مرتبہ کہی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دو نئے لیکن غیر مستقل رکن ملکوں کے طور پر بھارت اور جرمنی کے مابین بہت قریبی اشتراک عمل کتنا ضروری ہے۔

ویسٹر ویلے کے دورہء بھارت ہی کے بارے میں برلن کے اخبار ڈیئر ٹاگَیس شپیگل کا تبصرہ بہت جامع تھا۔ اس تبصرے کا عنوان بھی اتنا ہی بلیغ تھا جتنا کہ اس کا متن۔ یعنی ویسٹر ویلے نے تحفیف اسلحہ کی بات کی اور بھارت نے ہتھیاروں کی جبکہ وزیر اعظم من موہن سنگھ اور وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کے ساتھ ویسٹر ویلے کے مذاکرات ’شاندار‘ رہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امجد علی

DW.COM