1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیا کے حالات واقعات، جرمن پریس کی نظر میں

جنوبی ايشيا کے حالات و واقعات پر جرمن زبان کے پريس کے تبصروں اور جائزوں پر مشتمل ہفتہ وار سلسلہ جنوبی ایشیا اور جرمن پریس میں اس مرتبہ کے موضوعات میں پاکستان کا سیلاب سرفہرست ہے۔

default

پاکستان کی تاریخ کے شدید ترین سیلاب سے نمٹنے میں ناکامی پاکستانی جمہوری نظام کے لئے ایک خطرہ، بھارت کی طرف سے امداد کی پیشکش قبول کرنے میں امریکی دباؤ کا عمل دخل، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات، پاکستان کرکٹ کو درپیش ’سپاٹ فکسنگ‘ کا اسکینڈل اور گزشتہ سہ ماہی میں بھارت کی اقتصادی ترقی کی شرح میں ریکارڈ اضافہ۔ یہ سب اس ہفتے کے جائزے میں شامل ہے۔

پاکستان کے بدترین سیلاب سے نمٹنا غالباً ایک ایسا چیلنج تھا، جو اسلام آباد حکومت کی استعداد سے کہیں بڑھ کر تھا۔ ’فائنانشل ٹائمز جرمنی‘ کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے عوام کا اعتماد کھو دیا اور یہ کہ یہ صورتحال پاکستان میں جمہوری نظام کے لئے خطرہ بن رہی ہے۔ اخبار لکھتا ہے:’’سیلاب کی آفت سے نمٹنے کے لئے فوج سب سے آگے ہے، غیر ملکی امدادی کارکن جگہ جگہ پہنچ کر لوگوں کو مدد فراہم کر رہے ہیں، ایک پاکستانی حکومت ہی ہے، جو کہیں نظر نہیں آتی۔ جہاں کہیں بھی حکومت یا بین الاقوامی امدادی اداروں کو پہنچنے میں تاخیر ہو جاتی ہے،

Pakistan Flut Katastrophe 2010

پاکستان کا وسیع رقبہ زیر آب ہے

وہاں مسلمان انتہا پسند صورتِ حال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت کو لاحق خطرہ یہیں تک محدود نہیں ہے کہ یہ انتہا پسند اپنی امدادی سرگرمیوں کو پراپیگنڈہ مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں فوج کی حد سے زیادہ مصروفیت سے فائدہ اٹھا کر طالبان، جنہیں فوج نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران زبردست نقصان پہنچایا تھا، اب دیگر علاقوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرتے جا رہے ہیں۔‘‘

ایک ہفتے کی مکمل خاموشی اور انکار کے بعد بالآخر اسلام آباد حکومت نے نئی دہلی کی جانب سے سیلاب زدگان کے لئے پانچ ملین ڈالر امداد کی پیشکش قبول کر لی۔ برلن سے شائع ہونے والے اخبار ’ڈیئر فرائی ٹاگ‘ کے مطابق پاکستان نے ایسا غالباً اوباما حکومت کے دباؤ کی وجہ سے کیا۔ اخبار لکھتا ہے:’’پاکستان میں کامیابی کے لئے اوباما کے پاس ایک ہی صورت ہے کہ وہ اپنے اِس سرکش لیکن ناگزیر اسٹریٹیجک ساتھی کو بچانے کے لئے ایسے نپے تُلے اقدامات کرے کہ جن سے پاکستان نکلنا بھی چاہے تو نہ نکل سکے۔ پاکستان کو بچانے والے کثیرالقومی گروپ میں بھارت کی موجودگی ایک مخصوص وزن کی حامل ہے۔ امریکہ نے دراصل اپنے حریف چین کے پیشِ نظر پاکستان کو بھارت کی پیشکش قبول کرنے پر مجبور کیا ہے کیونکہ امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان میں قدرتی آفت میں مدد دینے والے ملکوں میں چین بھی لازمی طور پر شامل ہو۔‘‘

گزشتہ کئی ہفتوں سے قتل کے ایسے واقعات نے پاکستان کے بندرگاہی شہر کراچی کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس میں لوگوں کو ہدف بنا کر موت کے گھاٹ اُتارا جاتا ہے۔ قاتل موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آتے ہیں اور فائرنگ کرنے کے بعد رفو چکر ہو جاتے ہیں۔ زیادہ تر مقامی سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ فرینکفرٹ سے شائع ہونے والے اخبار ’فرانکفرٹر الگمائنے‘ کے مطابق یہ واقعات دراصل طاقت کی ایک ایسی کشمکش کا شاخسانہ ہیں، جس میں متحدہ قومی موومنٹ ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی اے این پی کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ اخبار رقم طراز ہے:’’دونوں کے درمیان خلیج اتنی وسیع ہے کہ حکومت کی ثالثی کوششیں بھی قتل کے واقعات کو نہیں روک پا رہیں۔ اسلام آباد حکومت اِن واقعات کو اتنی سنجیدگی سے لے رہی ہے کہ شدید ہنگاموں کے بعد اگست کے اوائل میں وزیر اعظم گیلانی نے سیلاب کے باوجود کراچی کا دورہ کیا۔ اُنہوں نے دونوں پارٹیوں کے قائدین کے ساتھ بات چیت میں اُنہیں معتدل رہنے اور اشتعال انگیزی سے بچنے کے لئے کہا۔ اِس بات چیت کا نتیجہ دونوں جانب سے ایک ’ضابطہء اخلاق‘ پر اتفاقِ رائے کی صورت میں برآمد ہوا حالانکہ دونوں طرف کے قائدین کا بدستور اصرار یہ بھی ہے کہ اِس معاملے سے اُن کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ یہ بات بار بار کہی جاتی ہے کہ اِن واقعات پر قابو پانا کراچی کی پولیس کے بساط سے باہر ہے۔

پہلے ہی گوناگوں مسائل کے شکار پاکستان کو چند روز سے کرکٹ میچوں میں ’سپاٹ فکسنگ‘ کے مسئلے کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اِس حوالے سے جرمن اخبار ’زوڈ ڈوئچے‘ لکھتا ہے:’’پاکستان کے اِس مقبول ترین کھیل کو محض ’میچ فکسنگ‘ کے یہ الزامات ہی نقصان نہیں پہنچا رہے ہیں بلکہ اس کھیل کو

Pakistan Cricket Manipulation

پاکستانی کرکٹرز کو سپاٹ فکسنگ کے الزامات کا سامنا ہے

سلامتی کے خطرات کا بھی سامنا ہے۔ گزشتہ سال دہشت گردوں نے لاہور میں ایک میچ کے موقع پر سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکار ہلاک اور ساتھ کھلاڑی زخمی ہو گئے تھے۔ تب سے حملوں کے خوف سے دیگر ٹیمیں پاکستان کا رُخ ہی نہیں کرتیں۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل آئی سی سی کے ارکان اب فکسنگ کے تازہ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ اِس پوری ٹیم کو بین الاقوامی مقابلوں سے خارج کر دیا جائے۔ ایسا ہوا تو پاکستان کے پہلے سے پریشان حال عوام کو ایک اور دھچکہ پہنچے گا۔

پاکستان کے بعد ذکر بھارت کا۔ اخبار ’ہانڈلز بلاٹ‘ کے مطابق عالمگیر اقتصادی مشکلات کے باوجود بھارت کی اقتصادی ترقی کی شرحیں بڑے حریف چین کے قریب تر پہنچنے لگی ہیں۔ یہ ملک اپنی ہی وسیع منڈی سے اور برآمدات پر کم انحصار سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ بہت سے عوامل یہ بتاتے ہیں کہ بھارت میں ترقی کے اس رجحان میں ابھی مزید اضافہ ہو گا۔ اخبار لکھتا ہے:’’زرعی شعبے کو اس سال مون سون کی اچھی بارشوں سے فائدہ ہو گا، حکومت ریکارڈ فصل کی پیشین گوئی کر رہی ہے۔ اِس سے اَفراطِ زر میں کمی آئے گی اور دیہی آبادی کی آمدنی میں اضافہ ہو گا اور جب یہ لوگ زیادہ پیسہ خرچ کریں گے تو قومی معیشت کو مزید تقویت ملے گی۔‘‘

ترتیب / ترجمہ: آنا لیہمان / امجد علی

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس