1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیا: کم عمری میں شادیاں، بنگلہ دیش سرفہرست

پاپولیشن کونسل نامی غیر سرکاری ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں ہر تین میں سے دو لڑکیوں کی شادی اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے ہی کر دی جاتی ہے اور بنگلہ دیش اس معاملے میں سرفہرست ہے۔

اس رپورٹ کی تیاری کے لیے بنگلہ دیش کی نو ہزار لڑکیوں کو ایک اسٹڈی کا حصہ بنایا گیا تھا۔ اس تحقیقاتی رپورٹ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر لڑکیاں تعلیم حاصل کر لیں تو ان میں کم عمری میں شادی کی شرح اکتیس فیصد تک کم ہو جاتی ہے اور اگر انہیں کوئی ہنر سکھا دیا جائے تو کم عمری میں شادی کی شرح میں چوبیس فیصد کمی ہو جاتی ہے۔

پاپولیشن کونسل کی نائب صدر نے اس رپورٹ کے حوالے سے کہا،’’چونکہ بنگلہ دیش میں یہ ثابت کرنا بہت مشکل ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جن سے کم عمری کی شادیوں کو روکا جا سکتا ہے، لہذا یہ حالیہ رپورٹ اس حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے۔‘‘ اس تحقیقاتی رپورٹ میں امریکا میں قائم پاپولیشن کونسل نے بنگلہ دیش کی بہتر مختلف کمیونٹیز میں لڑکیوں کو تعلیم اور تربیت فراہم کی تھی تاکہ پتہ چلایا جا سکے کہ ان کی شادیاں کب ہوتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنیسی یونیسیسف کے مطابق کم عمری کی شادیوں میں بنگلہ دیش کی شرح افریقی ملک نائیجر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہے جبکہ پندرہ سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیوں کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ بنگلہ دیش میں ہے۔

یوسیسیف کے مطابق دنیا بھر میں سات ملین لڑکیوں کی اٹھارہ برس کی عمر سے پہلے شادی کروا دی جاتی ہے۔

DW.COM