1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیا میں پانی کا تنازع

جنوبی ایشیا کے متعدد ملکوں کے مابین پانی کا تنازع شدید تر ہوتا جارہا ہے۔ اپریل میں ہونے والی سارک کانفرنس میں نیپال، پاکستان اور بنگلہ دیش پانی کو بھی ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق دستاویز میں شامل کرنے پر مصر ہیں۔

default

اگلی سارک کانفرنس بھوٹان میں منقعد ہو گی، اس میں ماحولیاتی تبدیلی ایک اہم موضوع ہوگا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ پانی بھی ایک بہت بڑا تنازع ہے جس پر پچھلے کئی ماہ سے لفظی جنگ تیزہو گئی ہے۔ بھارت اوربنگلہ دیش دریائے تیستا کے پانی کی تقسیم کے مسئلے کو آج تک حل نہیں کرسکے ہیں جب کہ مہاکالی ندی نیپال اوربھارت کے باہمی رشتوں کوخوشگوار بنانے کی راہ میں حائل ہے۔ پاکستان بھارت پر 1960 کے سندھ طاس آبی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

تعلیم کے امورمیں پاکستانی وزیراعظم کے مشیر صفدر آصف علی نے پچھلے دنوں بھارت پرپانی ” چرانے“ کا الزام لگایا تھا۔ لیکن بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے آبی وسائل کو بہتر طورپراستعمال نہیں کر پارہا ہے اس کے علاوہ وہ سندھ اوربلوچستان کے مسائل کی طرف سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے پانی کا مسئلہ غیرضروری طورپر بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے اور اصل حقائق کو عوام سے چھپا رہا ہے۔

Pakistan Wasserversorgung

پاکستانی وزیراعظم کے مشیر صفدر آصف علی نے پچھلے دنوں بھارت پرپانی ” چرانے“ کا الزام لگایا تھا

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ مغربی ندیوں کے ذریعہ 135 ملین ایکڑ فٹ(MAF) پانی بہتا ہے۔ معاہدے کی رو سے بھارت کو اپنے اسٹوریج پروجیکٹوں کے لئے 3.6 MAF پانی استعمال کرنے کا حق ہے۔ اسی طرح معاہدے کے مطابق اسے آب پاشی کے لئے 1.3MAF پانی استعمال کرنے کا حق ہے اس کے باوجود وہ صرف 0.8 MAF پانی استعمال کررہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسے 1343477 ایکڑ آراضی کی آب پاشی کی اجازت ہے لیکن وہ صرف 792426 ایکٹر آراضی کی ہی آب پاشی کررہا ہے۔ بھارتی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان اپنے یہاں قائم کئے گئے تربیلا اورمنگلا ڈیم کی وجہ سے بھی 32 فیصد پانی کا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوگیا ہے۔ نیز1999 سے 2009 کے درمیان کم بارش کی وجہ سے بھی بھارت کی طرف سے پاکستان کی طرف پانی کا بہاؤ کم رہا ہے۔

Indien Wasser Monsun Regen Kadana Staudam

جنوبی ایشیا میں پانی کا مسئلہ داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر موجود ہے

یہاں مشہور تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفینس اسٹڈیزاینڈ انالسس میں پانی اورماحولیات امور کے انچارج ڈاکٹراتم کمار سنہا کا خیال ہے کہ بلاشبہ جنوبی ایشیا میں پانی کا مسئلہ داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر موجود ہے اور مستقبل میں یہ مسئلہ کافی پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے داخلی مسئلے کو تو بہتر نظم و نسق اورآب پاشی کے نئے طریقوں کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے لیکن پڑوسی ملکوں کے ساتھ پانی کا مسئلہ مستقبل میں پریشانی کا موجب ثابت ہو گا۔

بھارت اور پاکستان گذشتہ تقریباً نصف صدی سے پانی کے تنازع کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی امید افزا صورت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ حالانکہ دونوں ملکوں نے پانی کے تنازع کو حل کرنے کے لئے عالمی بینک کی ثالثی میں تقریباً پچاس سال قبل سندھ طاس معاہدہ کے نام سے ایک معاہدہ کیا تھا لیکن اب تک کوئی زیادہ پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ اس دوران دونوں ملکوں کے بعض حلقے سندھ طاس آبی معاہدہ پر نظرثانی کی باتیں کررہے ہیں۔ ڈاکٹراتم کمار سنہا کا کہنا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا سیاسی مسئلہ ہے اوراس بات کا امکان کم ہے کہ دونوں ممالک آسانی سے ایک دوسرے کے موقف سے اتفاق کر لیں۔

Kinder in Bangladesh pumpen Wasser aus der öffentlichen Pumpe

پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اس خطے کے تمام ملکوں کو مل کرایک لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا

ڈاکٹرسنہا کا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین پانی کے مسئلے سے اصل نقصان کشمیر کے لوگوں کا ہی ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بجا طور پر یہ سوال کرتے ہیں کہ اس معاہدے سے آخر انہیں کیا فائدہ ہوا اس کے برخلاف کشیدگی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 1960 کے اس معاہدے پرکسی طرح کی نظر ثانی ہوتی ہے تو بھارت کوکافی احتیاط سے کام لینا ہوگا اوران غلطیوں کا اعادہ کرنے سے بچنا ہوگاجو اس نے 50 سال قبل کئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو پانی کے سلسلے میں کسی طرح کے معاہدے میں کشمیر ی عوام کے مفادات کو مدنظر رکھنا ہوگا تاکہ کشمیری عوام کی ضروریات بالخصوص آب پاشی اور بجلی کی ضروریات پوری ہوسکیں۔

آبی امور کے ماہرڈاکٹراتم کمار سنہا کا خیال ہے کہ جنوبی ایشیا میں پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اس خطے کے تمام ملکوں کو مل کرایک لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا اور صرف بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اورنیپال کے درمیان کسی معاہدے سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس میں چین کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ کیونکہ تبت پانی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ملکوں کوپانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے فوری اورمشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر سنہا کا خیال ہے کہ جنوبی ایشیا ملکوں کواپنے آبی تنازعات کو حل کرنے کے لئے افریقہ میں دریائے نیل کی مثال کو سامنے رکھنا چاہئے۔ جہاں تاریخی اختلافات کے با وجود گیارہ ممالک اس کے پانی کو کسی جھگڑے کے بغیر استعمال کررہے ہیں۔

رپورٹ : افتخار گیلانی

ادارت : عدنان اسحاق