1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی ایشیا میں زلزلے کے شدید جھٹکے، عمارتیں لرز کر رہ گئیں

جنوبی ایشیا میں آنے والے 6.6 شدت کے زلزلے کی وجہ سے پاکستان، افغانستان اور بھارت میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز افغانستان کی سرحد کے قریب پاکستان کے شمالی مغربی علاقے چترال کے مضافات میں تقریباﹰ 210 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تقریباﹰ ایک منٹ تک عمارتیں لرزتی رہیں اور لوگ خوف کے مارے اپنے گھروں سے نکلتے ہوئے سڑکوں اور گلیوں میں آگئے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں کے علاوہ وسطی پاکستان سے بھی ایسی ہی خبریں موصول ہوئی ہیں۔

پاکستان کی مقامی نیوز ویب سائٹ آئی بی سی اردو کے مطابق زلزلے کی وجہ سے خیبر پختونخواہ کے ضلع بونیرکے علاقے کڑاکڑ میں مٹی کا تودہ گر نے کی وجہ سے ایک شخص ہلاک اور ایک شدید زخمی ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مٹی کا تودہ گرنے سے بونیر اور سوات کے درمیان زمینی رابطہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔

پاکستان صوبہ پنجاب کا مرکزی شہر لاہور زلزلے کے مقام سے تقریباﹰ 630 کلومیٹر دور واقع ہے اور وہاں بھی اسی نوعیت کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ چترال کے ایک رہائشی کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ زلزلے کے جھٹکے تو شدید تھے لیکن کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا ہے۔

گزشتہ برس چھبیس اکتوبر کو اسی علاقے میں 7.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے نتیجے میں تین سو سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں گھر تباہ ہو گئے تھے۔

افغانستان میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان عمر محمدی کا کہنا تھا کہ ملک بھر سے اطلاعات جمع کر رہے ہیں لیکن فی الحال انہیں کسی کے جانی و مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

زلزلے کے جھٹکے بھارتی زیرکنٹرول کشمیر میں بھی محسوس کیے گئے ہیں جبکہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بھی زلزلے کے جھٹکوں سے عام لوگ خوف کی وجہ سے گلیوں میں نکل آئے۔ بھارتی ٹیلی وژن این ڈی ٹی وی کے مطابق کچھ دیر کے لیے دہلی کی زیر زمین ٹرین سروس بھی بند کر دی گئی تھی۔

پاکستان اور افغانستان ہندوکش کے اس علاقوں میں زلزلے آنے کی بڑی وجہ زیر زمین حجری تختوں کا متحرک ہونا خیال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہاں آنے والے زلزلوں کی شدت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ایک عشرہ پہلے پاکستان میں 7.6 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 75 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔