1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی ایشیا میں زلزلہ، امدادی کاموں میں تیزی کی کوشش

افغانستان اور پاکستان میں پیر کے دن آنے والے شدید زلزلے کے بعد امدادی ٹیمیں دوردراز پہاڑی علاقوں تک پہنچنے کی کوشش میں ہیں جبکہ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی تعداد 313 ہو گئی ہے۔

پاکستانی حکام نے منگل کے دن بتایا ہے کہ اس زلزلے کی تباہ کاری کی وجہ سے پاکستان میں 237 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ افغانستان میں یہ تعداد 74 ہے۔

اس زلزلے کا مرکز افغان صوبہ بدخشاں تھا، جو پاکستان، چین اور تاجکستان کے نزدیک واقع ہے۔ امریکی جیالوجیکل سروے کے مطابق اس زلزلے کی شدت ری ایکٹر اسکیل پر 7.5 نوٹ کی گئی۔ افغان حکام کے مطابق اس تباہی کی وجہ سے 266 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری طرف پاکستانی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بتایا ہے کہ پاکستان میں زخمیوں کی تعداد 1800 ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالا کنڈ کا پہاڑی علاقہ شدید متاثر ہوا ہے، جہاں دور دراز علاقوں میں امدادی ٹیمیوں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس زلزلے کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے پاکستانی فوج بھی فعال ہو چکی ہے تاکہ فوری طور پر ایسے مقامات تک رسائی حاصل کر لی جائے، جہاں امداد پہنچانا قدرے مشکل ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجودہ نے بتایا ہے کہ زلزلہ متاثرہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

عاصم سلیم نے مزید کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں نظام مواصلات کی بحالی کو کوشش کی جا رہی ہے تاکہ لوگوں سے رابطہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے البتہ اعتراف کیا کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے کچھ مقامات پر پہنچنے میں ابھی تک مشکلات درپیش ہیں۔

ادھر پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف بھی منگل کو وطن واپس لوٹنے پر زلزلہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کر سکتے ہیں۔ حکومتی ترجمان کے مطابق وہ آج اپنا دورہ امریکا مکمل کر کے واپس لوٹ رہے ہیں۔ نواز شریف نے متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کر دیے ہیں کہ زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے ہر ممکن وسیلہ بروئے کار لایا جائے۔

پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے ضلعی میئر ارباب محمد عاصم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ شہر میں بھی کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں جبکہ متعدد افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے اور امدادی ٹیمیں سرچ اور امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

Pakistan Erdbeben

پاکستان میں مالا کنڈ کا پہاڑی علاقہ شدید متاثر ہوا ہے

ارباب محمد عاصم کا کہنا تھا کہ سب سے پہلی کوشش یہ ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جائے۔ اس زلزلے کے جھٹکے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بھی محسوس کیے گئے۔

یہ امر اہم ہے کہ افغانستان کا جو علاقہ بری طرح متاثر ہوا ہے، وہاں افغان طالبان قابض ہیں، اس لیے وہاں امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ تاہم ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ طالبان نے امدادی ٹیموں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کییقین دہانی کرائی ہے۔