1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیا: صحافیوں کے لئے خطرناک سال 2009ء

سال 2009ء جنوبی ایشیا کے صحافیوں کیلئے اچھا سال ثابت نہیں ہو سکا۔ اس ایک سال کے دوران جنوبی ایشیا کے مختلف ملکوں میں صحافتی فرائض سر انجام دینے والے 12 صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

default

وادیء سوات: صحافی اپنے ایک ساتھی موسیٰ خیل کے قتل پر سراپائے احتجاج

جنوبی ایشیا میں صحافیوں کے حالات پر نظر رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ساؤتھ ایشیا میڈیا کمیشن نے منگل کے روز لاہور میں اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے۔ "میڈیا مانیٹرنگ"کے نام سے جاری کی جانے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحافیوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے 2009ء میں پاکستان سر فرست رہا۔ یہاں سات صحافی ہلاک کر دئے گئے۔ اس کے بعد افغانستان کا نمبر آتا ہے، جہاں دو صحافی ہلاک کر دئے گئے۔ اس کے علاوہ 2009ء میں بھارت ، نیپال اور سری لنکا میں بھی ایک ایک صحافی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

جنوبی ایشیا کے صحافیوں کی تنظیم ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوی ایشن کے تعاون سے تیار کی جانے والی اس میڈیا مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق صحافیوں کو قتل کرنے والوں کو ابھی تک قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا ہے۔

Journalisten protestieren in Guwahati Indien

بھارت: گوہاٹی میں صحافی برادری اپنے ایک ساتھی انیل موجمدار کی ہلاکت پر احتجاج کرتے ہوئے

رپورٹ کے مطابق اگرچہ جنوبی ایشیا کے تمام ملکوں میں آمریت کے دور ختم ہو چکے ہیں اور جمہوری حکومتیں کام کر رہی ہیں لیکن اس کے باوجود صحافیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہیں تشدد ،اغوا ، دباؤ، نوکریوں سے بر طرفیوں اور انتقامی رویوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اقتصادی بحران کی وجہ سے صحافیوں کی مالی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سب سے بری حالت اُن پاکستانی صحافیوں کی ہے، جو فاٹا اور صوبہء سرحد سمیت ملک کے شورش زدہ علاقوں میں صحافتی فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے ممتاز تجزیہ نگار منو بھائی نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو سیکیورٹی میسر نہیں ہے۔ اُن کے مطابق ان صحافیوں کے پاس انشورنس کی سہولت بھی نہیں ہے۔ جو صحافی پچھلے چند سالوں میں زندگی کی بازی ہار گئے تھے، اُن کے خاندان مشکلات سے بھری زندگی گزار رہے ہیں۔

ایک سو اسی صفحات پر مبنی اس رپورٹ کے سرورق پر خون کے چھینٹے دکھائے گئے ہیں۔ خون کے ان چھینٹوں پر تحریر کیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں 12 صحافی ہلاک کر دئے گئے۔ رپورٹ کے آغاز میں پہلے صفحے پر پشاور پریس کلب میں ہونے والے حالیہ خود کش حملے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا منظر بھی دکھایا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے صحافیوں کی سیکیورٹی کی صورتحال، پاک بھارت میڈیا وار کے نتائج، صحافتی توازن کی نئی اخلاقیات کی ضرورت، ممبئی حملوں کی پاکستانی اخبارات میں کوریج اور طالبان کے تناظر میں پاکستان میں جنگی اور امن پسند صحافت کے موضوعات مقالے بھی شامل کئے گئے ہیں۔

Sri Lanka Protest gegenüber Gewalt an Journalisten

سری لنکا: صحافیوں پر حملوں کے خلاف احتجاج کا ایک انداز

رپورٹ میں 2009ء میں پاکستانی صحافیوں کو پیش آنے والے مسائل اور مشکلات کو ترتیب وار درج کیا گیا ہے۔ وکلاء کے ہاتھوں ایک ٹی وی چینل کے رپوٹروں کی پٹائی کا ذکر بھی ان واقعات میں شامل ہے۔ طالبان کی طرف سے میڈیا کو دی جانے والی دھمکیوں کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2009ء میں اخبارات اور ٹی وی چینلوں کی انتظامیہ کی طرف سے بڑے پیمانے پر کارکنوں کی چھانٹیاں کی گئیں اور ویج بورڈ ایوارڈ نافذ نہ کر کے ذرائع ابلاغ کے مالکان نے صحافیوں کومشکل اقتصادی صورتحال سے دو چار کر دیا ہے۔

رپورٹ میں حالیہ بھارتی انتخابات کے دوران اشتہاری مواد کو پیسوں کے عوض خبروں کے طور پر پیش کرنے کے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں صحافیوں کو در پیش مسائل کے ساتھ ساتھ اہل صحافت کی بعض خامیوں کی بھی نشان دہی کی گئی ہے۔

ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسو سی ایشن کے رہنما امتیاز عالم نےڈوئچے ویلے کو بتایا کہ انتہا پسندی یا ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلانے کے عمل کےحوالے سے میڈیا کا کردار بہت بُرا رہا ہے۔ خاص طور پر پاکستان اور بھارت، پاکستان اور افغانستان کے درمیان، اسی طرح سری لنکا کے اندر اور بھارت اور بنگہ دیش کے درمیان فاصلے بڑھانے میں میڈیا نےافسوس ناک کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق میڈیا کو تحمل سے کام لینا چاہیے اور ملکوں کو لڑانے کی بجائے ان کے مسائل حل کرنے میں مدد دینی چاہئے۔ امتیاز عالم کے بقول، پاکستان میں ذرائع ابلاغ کا ایک حصہ جمہوری حکومت کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کیلئے مہم چلا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر ملک میں جمہوریت نہ رہی تو پھر پاکستان میں صحافت کی آزادی کا برقرار رہنا بھی خاصا مشکل ہو گا۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: امجد علی