1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیا جرمن پریس کے آئینے میں

گزشتہ ہفتے جرمن زبان کے اخبارات میں کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات، بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں اور ممبئی میں تازہ بم دھماکوں کے ساتھ ساتھ بھارت کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو بھی موضوع بنایا گیا۔

کراچی میں ہنگامے، بد امنی

کراچی میں ہنگامے، بد امنی

پاکستان کے بندرگاہی شہر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا اور وہاں گزشتہ چند روز کے اندر اندر تقریباً 90 افراد ہلاک ہو گئے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ سے شائع ہونے والا جرمن زبان کا اخبار ’نوئے زیوریشر سائی ٹُنگ‘ لکھتا ہے:

’’شہر میں کاروبار زندگی بڑی حد تک مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ شہریوں کے لیے اپنے گھروں میں بند ہو جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ سکیورٹی اہلکار ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ حالات پر قابو پانے سے قاصر ہیں۔ تجزیہ کار حمید گل کے خیال میں قتل و غارت گری کے واقعات کے پیچھے اپنے اپنے علاقے محفوظ بنانے کی جنگ کارفرما ہے۔ حکمران پیپلز پارٹی انتخابی حلقوں میں ایسی تبدیلیاں لانا چاہتی ہے، جن سے اُسے تو فائدہ ہو گا لیکن مقامی جماعت ایم کیو ایم گھاٹے میں رہے گی۔ بہت سے سیاستدانوں کے جرائم پیشہ گروہوں سے رابطے ہیں، جنہیں اب وہ اس جنگ میں استعمال کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومتی اتحاد کے ساتھ ساتھ سندھ کی صوبائی حکومت سے بھی ایم کیو ایم کے الگ ہو جانے سے یہ تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ تاہم اب یہ تنازعہ محض سیاسی جماعتوں کی طاقت کی کشمکش سے آگے بڑھ کر ایک نسلی تنازعے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ پاکستان کی حقوق انسانی کی ایک تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق سال رواں کی پہلی ششماہی کے دوران کراچی میں گیارہ سو سے زیادہ افراد قتل ہوئے، جن میں سے 490 سیاسی، نسلی یا مذہبی تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔

ڈرون طیاروں کا انتہائی کثرت سے استعمال جنگ کے کلچر کو تبدیل کر رہا ہے اور اُسے جو رُخ دے رہا ہے، وہ اچھا ہرگز نہیں ہے

ڈرون طیاروں کا انتہائی کثرت سے استعمال جنگ کے کلچر کو تبدیل کر رہا ہے اور اُسے جو رُخ دے رہا ہے، وہ اچھا ہرگز نہیں ہے

ڈرون حملوں کے سلسلے میں سرے سے کوئی سوال ہی نہیں کرتا

گزشتہ ہفتے پیر اور منگل کو پاکستان کے قبائلی علاقے میں کیے جانے والے مبینہ امریکی ڈرون حملوں میں کم از کم 48 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اخبار ’نوئے اوسنا بروکر سائی ٹُنگ‘ کے مطابق جہاں القاعدہ کے سربراہ اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کی خبروں کے بعد یہ سوالات اٹھائے گئے تھے کہ آیا کسی قاتل کی ہلاکت کی خبروں پر خوش ہوا جا سکتا ہے یا آیا کسی غیر مسلح دشمن کو تاک کر ہلاک کیا جا سکتا ہے، وہاں ڈرون حملوں کے حوالے سے تو کوئی سرے سے سوال بھی نہیں کرتا۔ اخبار لکھتا ہے:

’’اب امریکی فوجی زیادہ کثرت سے اور دن میں کئی کئی مرتبہ ڈرون طیارے بھیجنے لگے ہیں۔ حال ہی میں اکٹھے تقریباً پچاس انسانوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ امریکی فوجیوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ لوگ کسی کار میں بیٹھے تھے، چائے پینے میں مصروف تھے یا سو رہے تھے۔ یہ بات ضرور طے شُدہ ہے کہ یہ لوگ کبھی بھی کسی جھڑپ میں نہیں مارے گئے، نہ ہی اُن کا جرم ثابت ہوا ہے۔ اکثر اوقات یہ ڈرون حملے اُن مقامی افراد کی مشکوک مخبری پر کیے جاتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو محض انعام کا لالچ ہوتا ہے۔ جو کوئی بھی یہ سمجھتا ہے کہ ڈرون حملے محض ایک نئی قسم کا توپخانہ ہیں اور یوں محض معمول کا ایک ہتھیار ہیں، وہ غلطی پر ہے۔ ان ہتھیاروں کا انتہائی کثرت سے استعمال جنگ کے کلچر کو تبدیل کر رہا ہے اور اُسے جو رُخ دے رہا ہے، وہ اچھا ہرگز نہیں ہے۔‘‘

ممبئی کے تازہ بم حملوں کا ذمہ دار کون؟

گزرے ہفتے کے اخبارات میں بھارت کے اقتصادی مرکز ممبئی میں ہونے والے تازہ حملوں کو بھی موضو ع بنایا گیا۔ تیرہ جولائی کو ممبئی میں تین بم دھماکوں میں سترہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ برلن سے شائع ہونے والا اخبار ’ٹاگیز سائی ٹنگ‘ لکھتا ہے:

’’کم از کم 166 افراد کی ہلاکت کا با عث بننے والے نومبر 2008ء کے ممبئی دہشت پسندانہ حملوں کو گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کے مترادف قرار دیا گیا تھا۔ تاہم حملوں کا تازہ سلسلہ اُس سطح کے حملوں میں شمار نہیں ہوتا۔ اس بار دہشت گردی کی تیاری پاکستان سے گئے ہوئے تربیت یافتہ دہشت گردوں نے نہیں کی تھی۔ اس بار بم ایک ٹیکسی، بجلی کے ایک میٹر یا ایسی دیگر جگہوں پر چھپا کر رکھے گئے تھے، جہاں اُنہیں ریموٹ کنٹرول کی مدد سے چلایا جا سکے۔ امریکی تجزیہ کار سروس سٹریٹفور لکھتی ہے کہ یہ طریقہ کار انڈین مجاہدین جیسے قدرے ناتجربہ کار گروپوں کا معلوم ہوتا ہے، جو پہلے بھی شہروں کے پُر ہجوم مقامات کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔‘‘

اخبار آگے چل کر مزید لکھتا ہے:’’2008ء اور 2011ء کے درمیان بھارت میں کم از کم تیرہ قدرے بڑے حملے ہوئے۔ بھارتی پولیس اور میڈیا ان حملوں کے لیے بلا تاخیر مسلمان انتہا پسندوں کو موردِ الزام ٹھہرا دیتے ہیں۔ تاہم مغربی بھارت میں ایسے کئی حملے ہوئے ہیں، جن کا الزام پہلے مسلمان انتہا پسندوں پر لگا لیکن بعد ازاں ایسے قوی شواہد ملے کہ مسلمان

گروپوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کے لیے یہ بم ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے رکھے گئے تھے۔‘‘

ممبئی کے تازہ بم حملوں میں مقامی مسلمان انتہا پسند یا پھر جرائم پیشہ گروہ بھی ملوث ہو سکتے ہیں

ممبئی کے تازہ بم حملوں میں مقامی مسلمان انتہا پسند یا پھر جرائم پیشہ گروہ بھی ملوث ہو سکتے ہیں

ممبئی بم دھماکے: جرائم پیشہ انڈر ورلڈ پر بھی شبہ

اسی موضو ع پر برلن سے شائع ہونے والا سوشلسٹ اخبار ’نوئیس ڈوئچ لانڈ‘ لکھتا ہے: ’’بھارتی میڈیا میں پولیس کے حوالے سے ان حملوں کا شبہ انڈین مجاہدین نامی گروپ پر کیا جا رہا ہے۔ دیگر حلقے بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں برسرِ پیکار باغی گروپوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جہاں ہر سال تیرہ جولائی کو شہیدوں کا دن منایا جاتا ہے۔ ان حملوں کے سلسلے میں ممبئی کے جرائم پیشہ گروہوں پر بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ ہفتوں کے دوران جرائم پیشہ افراد کی کئی ہنگامہ خیز گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں۔‘‘

بھارت اور ویت نام: شراکت بھی، مقابلہ بازی بھی

فرانسیسی اخبار لا موند ڈپلومیٹک کے جرمن ایڈیشن کے مطابق بین الاقوامی سطح پر امریکہ کا اثر و رسوخ کم ہوتا جا رہا ہے اور نئے نئے جغرافیائی سیاسی اتحاد وجود میں آ رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق ان اتحادوں میں شراکت اور مقابلہ بازی کا ایک خاص امتزاج نظر آتا ہے۔ اخبار اس سلسلے میں بھارت اور ویت نام کی مثال دیتے ہوئے لکھتا ہے:

’’بھارت کو اپنی مسلسل پھیلتی ہوئی معیشت کے لیے زیادہ سے زیادہ توانائی کی ضرورت ہے اور اسی لیے بھارت بحیرہ جنوبی چین میں ویت نام کے گیس کے ذخائر میں دلچسپی لے رہا ہے۔ دوسری جانب بھارتی سرمایہ کار تکنیک، تنظیم اور مارکیٹنگ کے شعبوں میں وہ مہارت بھی اپنے ساتھ لا رہے ہیں، جس کی ویت نام کو گیس کے شعبے میں اشد ضرورت بھی ہے اور جس کے لیے اُسے مغربی دُنیا کے کسی ملک یا اپنے ہمسائے چین کا بھی محتاج نہیں ہونا پڑے گا۔ بھارت بھی ہر قیمت پر چین کو اس بات سے روکنا چاہتا ہے کہ وہ جنوب مشرقی ایشیا کے سمندروں میں موجود توانائی کے بے پناہ ذخائر کی اکیلے دسترس میں آ جائے۔ یہاں آ کر بھارت اور ویت نام کے مفادات ایک ہو جاتے ہیں۔‘‘

ترجمہ: امجد علی

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس