1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیا: جرمن پریس کی نظر میں

جنوبی ايشا کے حالات و واقعات پر جرمن زبان کے رسائل و اخبارات کی آراء اور تبصروں پر مشتمل جائزہ۔ ذکر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات اور طالبان قیادت کی پاکستان میں مبینہ موجودگی کا۔

default

پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکریٹری

سن 2008 ميں مومبئی کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابين پہلی بار دوبارہ مذاکرات ہوئے ہيں۔ اخبار Neue Zürcher Zeitung لکھتا ہے:

دونوں ملکوں کے مابين مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی وجہ امريکہ کا دباؤ معلوم ہوتا ہے۔ امريکہ يہ چاہتا ہے کہ ان مذاکرات کے نتيجے ميں پاکستان کی مشرقی سرحد پر کشيدگی ختم ہوجائے تاکہ امريکی اتحادی پاکستان کی مغرب ميں افغانستان سے ملنے والی سرحد پر پوری توجہ دے سکے۔ امريکہ کو يہ اميد تھی کہ دونوں فريق کم ازکم بات چيت کی نئی تاريخيں طے کريں گے ليکن يہ تک بھی نہيں ہوسکا۔ بھارتی سيکريٹری خارجہ نروپاما راؤ اور پاکستانی سيکريٹری خارجہ سلمان بشير کے درميان بات چيت کے،حسب توقع کوئی ٹھوس نتائج برآمد نہيں ہوئے۔ تاہم دونوں ہمسايہ ايٹمی طاقتوں کے مابين موجود کشيدگی کی صورتحال ميں صرف يہی بات ايک کاميابی سمجھی جاتی ہے کہ دونوں ممالک پھر آپس ميں بات چيت کررہے ہيں۔

اخبار Frankfurter Allgemeine Zeitung تحرير کرتا ہے کہ پاکستان کے مغربی سرحدی علاقوں سے افغانستان منں جو جنگ لڑی جارہی ہے اور جس کے لئے امريکی اور طالبان دونوں پاکستانی علاقے سے کمک حاصل کررہے ہيں، اُس کے خاتمے کے لئے پاکستان کے مسئلے کو حل کرنا ضروری ہے۔ ايک اعلی يورپی سفارتکار نے، جن کے ملک نے افغانستان کی جنگ ميں بڑی تعداد ميں فوج فراہم کی ہے،حال ہی ميں پاکستان کے بارے ميں کہا کہ وہ ان کے لئے ايک بھيانک خواب

Pakistan Landschaft in Waziristan Luftaufnahme

افغانستان کی سرحد کے ساتھ پاکستانی علاقے وزیرستان کا فضائی منظر

ہے جو اس طرح بيان کيا جاسکتا ہے کہ سرحدی علاقوں ميں امريکی جنگ اور عسکريت پسندوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے نتيجے ميں پاکستانی رياست بکھر سکتی ہے اور جوہری اسلحہ فوج کے کنٹرول سے نکل سکتا ہے۔ پاکستان، سلامتی کے لئے ايک خطرہ ہے کيونکہ وہ جنوب مغربی ايشيا ميں امريکہ کا اتحادی،چين کا ساتھی اور بھارت کا بے يقينی کی کيفيت سے دوچار ہمسايہ ہے جس کا کشمير پر بھارت کے ساتھ قديم تنازعہ ہے۔ افغانستان کے انتشار ميں پاکستان کی طويل مداخلت، افغانستان کی جنگ کے خاتمے کے لئے ايک علاقائی حل کی راہ ميں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اخبار Süddeutsche zeitung تحرير کرتا ہے کہ طالبان کے چوٹی کے قائد برسوں سے بلا روک ٹوک پاکستان ميں مقيم ہيں حالانکہ اسلام آباد کی حکومت اس کی مسلسل ترديد کرتی رہی ہے۔ طالبان کے چند اعلی رہنماؤں کی حاليہ گرفتاريوں سے يہ بات ثابت ہوگئی ہے۔ پاکستان اور اُس کی طاقتور فوج کی مدد کے بغير نيٹو افغانستان ميں کسی قسم کا استحکام قائم نہيں کرسکتا۔ افغان طالبان اب تک بڑی آسانی سے ہمسايہ ملک پاکستان ميں داخل ہو کر چھپ سکتے تھے۔ نيٹو اب جنوبی افغانستان کے ہنگامہ شورشزدہ اور طالبان کے غلبے والے علاقے مرجہ ميں، مسلسل کاميابياں حاصل کررہا ہے اور بتايا جاتا ہے کہ وہاں افغان حکام نے دوبارہ کنٹرول حاصل کرليا ہے۔ کيا يہ کئی دشوار برسوں کے بعد ايک تبديلی اور طالبان کے خاتمے کے آثار ہيں؟ حقيقتاً ابھی نہيں، حالانکہ ايک مغربی سفارتکار کی يہ بات صحيح ہی ہے کہ طالبان اپنے چند گرفتار شدہ قائدين کی کمی اتنی جلد پوری نہيں کرسکيں گے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت : کشور مصطفیٰ

DW.COM