1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیا جرمن پریس کی نظر سے

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن، گزشتہ ہفتے پشاور میں ہونے والا دھماکہ اور بھارت میں ماؤنوازوں کی سرگرمیوں کے ساتھ جنوبی ایشیا کے حالات و واقعات پر جرمن پریس کے تبصرے۔

default

پشاور کے ایک بارونق بازار میں ایک خود کُش حملے میں ایک سو سے زیادہ انسانوں کی ہلاکت کو ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ ایک بار پھر راولپنڈی کو ایک ہولناک حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ برلن سے شائع ہونے والا اخبار ٹاگیز شپیگل لکھتا ہے:

’’یہ حملہ پاکستانی فوج کے منہ پر ایک اور طمانچہ اور ایک کھلا اعلانِ جنگ ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق مرنے والوں میں سیکیورٹی فورسز کے بھی بہت سے ارکان شامل ہیں، جو اپنی تنخواہیں وصل کرنے کے لئے ایک بینک کے سامنے قطار میں کھڑے تھے۔ ابھی تین ہفتے پہلے عسکریت پسندوں نے راولپنڈی ہی میں فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا تھا اور وہاں متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ جب سے فوج نے جنوبی وزیرستان میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا ہے، سترہ کروڑ کی آبادی والے اِس ملک کو پے در پے خونریز دہشت پسندانہ حملوں نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔

Mindestens 50 Tote bei Anschlag in Peshawar

پاکستانی شہر پشاور میں گزشتہ ہفتے دھماکے میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے

جنوبی وزیرستان میں فوجی پیشقدمی کے آغاز ہی سے پاکستانی فوج مسلسل کامیابیوں کے اعلان کر رہی ہے اور فوجی قیادت کا دعویٰ ہے کہ جلد ہی موسمِ سرما اور برف باری کے آغاز کے پیشِ نظر یہ زمینی آپریشن آٹھ ہفتوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔ سوئٹزرلینڈ سے شائع ہونے والا جرمن زبان کا اخبار نَوئئے زیوریشر سائی ٹُنگ لکھتا ہے:

’’یہ منصوبہ بندی حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ وادیء سوات پر ہی قبضے کے لئے سرکاری دَستوں کو دَس ہفتے لگ گئے تھے۔ اِس کے مقابلے میں جنوبی قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی تعداد بھی زیادہ ہے اور وہاں فوج کی جڑیں بھی نہیں ہیں۔ ایسے میں امکان غالب ہے کہ جنوبی وزیرستان کا آپریشن کہیں زیادہ طویل عرصے تک جاری رہے گا اور وادیء سوات کے مقابلے میں یہاں جانی نقصان بھی زیادہ ہو گا۔ چند ایک مبصرین تو اِس بات کو ہی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ فوج مستقبل قریب میں اِس قبائلی علاقے کو اپنے کنٹرول میں لانے میں کامیاب ہو جائے گی۔‘‘

اُدھر بھارت کے مشرقی علاقوں میں نئی دہلی حکومت بھی ایک بڑی فوجی کارروائی کے ذریعے وہاں سرگرم ماؤ نواز باغیوں کی طاقت ختم کرنا چاہتی ہے۔ اِس تنازعے کی وضاحت کرتے ہوئے جرمن ہفت روزہ ’’فوکُس‘‘ اپنے قارئین کو بتاتا ہے:

’’ماؤ نواز باغی ہر طرح کی جدید تہذیب سے دور اُن علاقوں میں سرگرمِ عمل ہیں، جہاں بھارت کے قدیم مقامی باشندے آباد ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں، جہاں ریاست اپنی عملداری قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ وہاں ماؤ نوازوں نے متوازی حکومتیں قائم کر لی ہیں اور آہنی ہاتھ سے حکومت کر رہے ہیں۔ جو بھی اُن کے ساتھ تعاون نہیں کرتا، اُسے نمائشی مقدمات کے بعد پھانسی دے دی جاتی ہے۔ تین لاکھ افراد جنگ زدہ علاقوں سے فرار ہو چکے ہیں۔ پُرعزم بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم کے مطابق کوئی بھی ریاست اپنی جمہوریت پر مسلح حملے برداشت نہیں کرتی۔ جنگلوں میں ماؤ نوازوں کا صفایا کرنے کے لئے انسدادِ دہشت گردی یونٹوں کے جدید ترین اسلحے سے لیس ستر ہزار اہلکار روانہ کئے گئے ہیں، جنہیں ہیلی کاپٹروں کی بھی مدد حاصل ہے۔‘‘

Naxalite Soldat

بھارت کے مشرقی علاقوں میں ماؤنواز باغی سرگرم ہیں

بھارت اپنی فوج کو جدید سے جدید تر بنانے میں مصروف ہے۔ بھارتی فوج کے لئے جنگی طیاروں، ہیلی کاپٹر ا ور آبدوزیں وغیرہ خریدنے کے لئے رواں مالی سال میں تقریباً نو ارب ڈالر مختص کئے گئے ہیں جبکہ اگلے پانچ برسوں میں یہ رقم بڑھ کر مجموعی طور پر پچاس ارب ڈالر ہو جائے گی۔ اخبار ’’وَیلٹ اَم زونٹاگ‘‘ لکھتا ہے:

’’دُنیا کے آبادی کے لحاظ سے دوسرے سب سے بڑے ملک کی فوج کی حالت خستہ ہے۔ فوجی قیادت کو عرصے سے یہ شکایت ہے کہ اسلحے اور تربیت کے اعتبار سے بھارتی اَفواج جدید دَور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اور یہ کہ یہ اَفواج پاکستان اور چین کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرے کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکیں گی۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ بھارتی فوج کی طاقت اِس ملک کے علاقائی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے کردار سے مطابقت نہیں رکھتی۔ دہلی میں فوج کے سرمائے سے چلنے والے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفینس اسٹڈیز سے تعلق رکھنے والے ماہر لکشمن بیہیرا کے مطابق یہی وجہ ہے کہ بحرِ ہند میں بحری جہازوں کے رُوٹوں اور توانائی کی فراہمی کا تحفظ تقریباً ناممکن ہے۔ اِس کے برعکس چینی فوج ایشیا میں اپنا دائرہء اختیار تیزی سے پھیلاتی جا رہی ہے۔‘‘

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے ایک ٹرائی بیونل کے قیام کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ مقصد قتلِ عام کے اُن خونریز واقعات کے بارے میں تحقیقات کرنا ہے، جو اڑتیس برس قبل بنگلہ دیش کے قیام کے موقع پر رونما ہوئے تھے۔ اِس ٹرائی بیونل کے سلسلے میں ڈھاکہ حکومت کو پیش آنے والے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے اخبار نوئے زیوریشر سائی ٹُنگ لکھتا ہے:

’’یہ ٹرائی بیونل متنازعہ ہے کیونکہ بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اسلامی جماعت ’’جماعتِ اسلامی‘‘ کی تقریباً پوری اعلیٰ قیادت کٹہرے میں کھڑی ہو گی۔ یہ جماعت سن 1971ء میں پاکستان ہی میں شامل رہنا چاہتی تھی اور اِس کی طلبہ تنظیم نے پاکستانی فوجیوں کے ساتھ مل کر بہت سے بنگلہ دانشوروں کو قتل کیا تھا۔ مغربی سفارتکار جنگی جرائم کی تحقیقات کے حق میں ہیں لیکن اُنہیں خدشہ ہے کہ یہ ٹرائی بیونل وزیر اعظم حسینہ اور اڑتیس سال پہلے پاکستان سے آزادی کے مخالفین کے درمیان ذاتی انتقام کی شکل اختیار کر سکتا ہے اور یہ کہ اِس تنازعے میں بہت زیادہ شدت پیدا ہو سکتی ہے۔‘‘

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عابد حسین

DW.COM