1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیا اور جرمن پریس

جنوبی ايشيا کے حالات کے بارے ميں جرمن زبان کے پريس کے تبصروں اور آراء پر مشتمل جائزہ۔

default

اخبار Tagesspiegel لاہورميں ہونے والے خونی خود کُش حملے کے بارے ميں، جس کی ذمے داری طالبان نے قبول کی ہے، رقم طراز ہے: ’’اس طرح پاکستان کے ايسے رہائشی علاقوں ميں بھی دہشت گردی مسلسل بڑھتی جارہی ہے جو اب تک محفوظ سمجھے جاتے تھے۔ بعض تبصرہ نگاروں کا خيال ہے کہ يہ حملے ، حال ہی ميں طالبان رہنماؤں کی گرفتاری کا انتقام لينے کے لئے کئے گئے ہيں۔ ليکن اس کا امکان کم ہی ہے۔ پاکستانی خفيہ سروس نے ملک ميں چھپے کئی طالبان رہنماؤں کو سياسی وجوہ کی بناء پر گرفتار کيا ہے۔ طالبان فوجی کمانڈر ملا عبدالغنی برادر جيسے يہ طالبان رہنما دراصل اعتدال پسند اور مذاکرات پر آمادہ ليڈر ہيں۔ ملا برادر، طالبان کے قائد ملا عمر کی طرف سے افغان حکومت سے خفيہ مذاکرات کررہے تھے۔ قياس کيا جاتا ہے کہ پاکستان اس پر رضامند نہيں کہ اُسے ان مذاکرات سے الگ رکھا جائے۔ ملا برادر کو اسی لئے گرفتار کيا گيا تاکہ افغانستان کے مستقبل کی بات چيت ميں پاکستان کو بھی اہم فريق کی حيثيت سے شامل کيا جائے۔‘‘

Anschlag Explosion Lahore Pakistan tote Frau

حالیہ دنوں میں لاہور پر کئی دہشت گردانہ حملے کئے گئے

اخبار Berliner Zeitung لکھتا ہے:’’سکون اور امن کے خواب، لاہور ميں تازہ ترين خود کش حملوں کی تباہی ميں بکھر چکے ہيں۔ پاکستان کے سلامتی کے ماہرين ميں سے حقيقت پسندوں کو پہلے ہی اس قسم کے حملوں کا خدشہ تھا۔ لاہور کے خود کش حملے کو ايک تنبيہہ سمجھا جانا چاہئے: پاکستان ميں دہشت گردوں کے خلاف جنگ ختم ہونے ميں ابھی خاصا عرصہ لگے گا۔ ليکن کيونکہ ايک بارپھر حملے ميں فوجيوں کو نشانہ بنايا گيا ہے ، اس لئے شايد فوج ميں اب ايسے عناصر کو تقويت ملے گی جو ايک زمانے ميں پاکستانی فوج کے ہاتھوں تربيت پانے والے طالبان کے ساتھ غير مقدس اتحاد بلآخر ختم کرديے جانے کے حامی ہيں۔‘‘

اخبار Neu Zümcher Zeitung تحرير کرتا ہے: ’’بھارت ايک عرصے سے اپنی فوج کو جديد تر بنارہا ہے اور وہ اس کے لئے روسی اسلحہ بھی خريد رہا ہے۔ اسلحہ برآمد کرنے والی روسی رياستی فرم روسوبورون ايکسپورٹ کو، اس سے اربوں ڈالر کی آمدنی ہورہی ہے۔ليکن نئی دہلی اور ماسکو کے اس سے بھی کہيں زيادہ مشترکہ مفادات ہيں۔ روسی وزير اعظم پوٹن يہ کہ چکے ہيں کہ روس اور بھارت دونوں کو دہشت گرد گروپوں کا سامنا ہے جو پاکستان اور افغانستان کے علاقوں سے کارروائياں کررہے ہيں۔ روسی ايٹمی ايجنسی نے بھارت کو ايٹمی ٹيکنالوجی فراہم کرنے کا معاہدہ کيا ہے جس ميں اُسے کئی ارب ڈالر کا منافع ہوگا۔ دوسال پہلے امريکہ اور بھارت نے امريکی ٹيکنالوجی بھارت برآمد کرنے کا معاہدہ کيا تھا ليکن يہ معاہدہ فراہمی کی شرائط کے سوال پر ناکام ہو گيا۔ اب يہ بازی روس نے جيت لی ہے۔‘‘

جائزپ شہاب احمد صدیقی

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM