1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیا اور جرمن پریس

گزشتہ ہفتے جنوبی ایشیا کے اہم واقعات میں امریکی صدر کے مشیر برائے قومی سلامتی جیمز جونز کا دورہ پاکستان، بھارتی معیشت شامل رہے۔

default

پاکستان گذشتہ ہفتے کے جرمن پریس میں خبروں کا موضوع کم ہی رہا۔ ہفت روزہ جریدے ’’شپیگل‘‘ میں امریکی صدر کے مشیر برائے قومی سلامتی جیمز جونز کا ایک انٹرویو شائع ہوا، جس میں پاکستان میں امریکی مفادات پر بھی بات ہوئی۔ اِس انٹرویو میں جیمز جونز کا کہنا تھا: ’’پاکستان صرف امریکہ ہی نہیں، پورے نیٹو کے لئے دفاعی اہمیت کا حامل ہے۔ اِس ملک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، وہاں ہمیں دہشت پسند تنظیموں کی طرف سے ایک ایسی بغاوت کا سامنا ہے، جو ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ وہاں سے درپیش خطرہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ہم پاکستانی فوج کے ساتھ بہت قریبی رابطہ رکھتے ہوئے اُس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں تاکہ وہ باغیوں کو شکست سے دوچار کر سکے۔ سن 2006ء سے افغانستان کے ساتھ ملنے والے سرحدی علاقے میں یہ بغاوتیں سرطان کی طرح پھیل گئی ہیں۔‘‘

پاکستان ہی پر بات کرتے ہوئے جیمز جونز اِس انٹرویو میں مزید کہتے ہیں: ’’مجھے یقین ہے کہ ہم وہاں موجود مسائل پر محض فوجی کارروائی کے ذریعے ہی قابو نہیں پا سکیں گے۔ فوجیوں کی ایک کم از کم تعداد کی وہاں موجودگی ضروری ہے، یہ اہم بات ہے لیکن فوجیوں کی کوئی ایسی زیادہ سے زیادہ تعداد نہیں ہے، جو اِس مسئلے کو حل کر سکتی ہو۔‘‘

ایشیا کی تیسری بڑی معیشت بھارت بین الاقوامی کاروباری برادری کو بڑے بڑے وعدوں کے ساتھ اپنی طرف راغب کر رہی ہے۔ نئی دہلی میں عالمی اقتصادی فورم کی بھارتی سربراہ کانفرنس کے آغاز پر وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا:’’ہم ماضی کے کسی بھی دَور کے مقابلے میں آج اصلاحات کو عملی شکل دینے کے سلسلے میں بہتر پوزیشن میں ہیں۔‘‘ فرینکفرٹ سے شائع ہونے والا اخبار ’’فرانکفُرٹر الگمائنے‘‘ لکھتا ہے: ’’سنگھ یہ بات جانتے ہیں کہ اگر دوبارہ منتخب ہونے والی حکومت اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتی ہے تو اُسے اصلاحات کے عمل میں در آنے والے جمود کو ختم کرنا ہو گا۔ دفتر شاہی کے ضابطوں کو کم کرنا ہو گا اور اصلاحات کے منصوبوں کو عملی شکل دینا ہو گی۔ دُنیا بھر سے گئی ہوئی چھ سو سے زیادہ مہمان کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ نے ایک نئے بھارت کا خاکہ پیش کیا۔ قرضے فراہم کرنے والی ایک مؤثر منڈی معیشت کو پیسہ فراہم کرے گی۔ انشورنس کمپنیوں میں غیر ملکی شرکت کو بڑھا کر اُنچاس فیصد تک لے جایا جائے گا۔ مزید ادارے نجی شعبے کے حوالے کئے جائیں گے اور باہر سے آنے والا سرمایہ خاص طور پر اقتصادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔‘‘

اخبار ’’فائنانشل ٹائمز جرمنی‘‘ کے خیال میں بھارت میں اقتصادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی میں ملک بھر میں سڑکوں کے جال کو بہتر بنانے پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ حکومت اِس مقصد کے لئے ملک کے اندر اور باہر کے سرمایہ کاروں سے تقریباً چَودہ ارب ڈالر اکٹھا کر رہی ہے۔ اخبار لکھتا ہے:

’’حکومتِ بھارت نے جان لیا ہے کہ سڑکوں کی ابتر حالت خاص طور پر ملک کی غریب آبادی پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے اور اِسی وجہ سے معاشی ترقی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ مؤثر اقتصادی ڈھانچے کی عدم موجودگی میں ایک زرعی ملک صنعتی ملک میں نہیں بدل سکتا۔ سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے وزیر کمل ناتھ کہتے ہیں:’’سڑکیں تعمیر کرنے کا مطلب ہے، ترقی کے عمل کو آگے بڑھانا۔‘‘ اُن کا نصب العین ہے کہ بیس کلومیٹر روزانہ کے حساب سے سالانہ سات ہزار کلومیٹر نئی شاہراہیں تعمیر کی جائیں گی۔ تاہم اب تک تو حالت یہ ہے کہ بھارت میں سڑکیں محض دو کلومیٹر روزانہ کے حساب سے تعمیر ہو رہی ہیں۔‘‘

آخر میں بنگلہ دیش، جہاں ڈاک کے ذریعے اَشیاء فروخت کرنے والے دُنیا کے سب سے بڑے ادارے کے مالک مِشاعیل اوٹو نے سماجی اور ماحولیاتی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ٹیکسٹائل فیکٹری قائم کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ اِس حوالے سے فرینکفرٹ سے شائع ہونے والا اخبار ’’فرانک فُورٹر رُنڈ شاؤ‘‘ لکھتا ہے:

’’ایسے میں یہ کوئی اتفاقیہ امر نہیں تھا کہ امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والے محمد یونس نے ہیمبرگ میں اوٹو کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا۔ دارالحکومت ڈھاکہ کی یہ فیکٹری کاربن ڈائی آکسائیڈ سے پاک ہو گی اور وہاں برآمد کرنے کے لئے ماحول دوست ٹی شرٹس تیار کی جائیں گی۔ اِس فیکٹری کے پانچ تا سات سو ملازمین کی بڑی تعداد خواتین پر مشتمل ہو گی، جنہیں بنگلہ دیشی معیارات کے مطابق اُنیس تا پینسٹھ یورو ماہانہ تنخواہ ملا کرے گی۔ اِس کے علاوہ کنڈر گارٹن کی طرح کی سماجی سہولتوں کا بھی پروگرام بنایا گیا ہے۔ مشاعیل اوٹو نے کہا کہ فیکٹری سے حاصل ہونے والا منافع ملازمین کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والی ایک فاؤنڈیشن کو ملے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ پوری دُنیا میں یہ اپنی طرز کا پہلا منصوبہ ہے۔ یونس نے کہا کہ اِس طرح کی ’’مستقبل کی فیکٹری‘‘ بیس سال پہلے دیوارِ برلن کے انہدام ہی کی طرح امید کی ایک علامت ہے کہ ایک روز امیر اور غریب کے درمیان حائل دیواریں بھی گر جائیں گی۔‘‘

تحریر: آنا لیہمن، ترجمہ: امجد علی

ادارت: کشورمصطفیٰ