1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیا اور جرمن پریس

جنوبی ايشيا کے حالات و واقعات کے بارے ميں جرمن رسائل و جرائد میں چھپنے والے تبصرے اور ادارتی جائزوں کا احاطہ

default

اخبار Süddeutsche Zeitung تحرير کرتا ہے کہ پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد ميں عالمی غذائی پروگرام کے سخت پہرے والے دفتر پر حملے اور اس ميں پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد اقوام متحدہ نے اپنے دفاتر کو دوبارہ بند کر دينے کا فیصلہ کيا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ہر ادارے پر سب سے پہلے اپنے رفقائے کار کی حفاظت کی ذمے داری عائد ہوتی ہے اور اس لئے اقوام متحدہ کے، اپنے پاکستانی دفاتر بند کر دينے کے فيصلے پر کوئی تنقيد نہيں کر سکتا۔ تاہم يہ فیصلہ غریب اور مصائب کے شکار پاکستانی عوام کے لئے تباہ کن ہے اور يہی حملہ آوروں کا مقصد بھی ہے۔

Zeitungstitel

اقوام متحدہ سوات کے بے گھر افراد کی امداد کی قوت متحرکہ تھا اور وہ ان بھوکے عوام کی نجات کا ذريعہ تھا، جن کی ضروريات پاکستانی حکومت پوری نہيں کر سکتی۔ يہ بات بھی تباہ کن ہے کہ طالبان، جو پاکستان ميں بھی امريکہ کے خلاف مصروف جنگ ہيں اور اجتماعی قصور اقوام متحدہ پر ڈالتے ہوئے اسے بھی سزا دے رہے ہيں،اس مرتبہ اسلام آباد ميں اس طرح کا حملہ کرنے ميں کامياب ہوئے ہيں۔ اسلام آباد ميں غيز ملکيوں کے دفاتر قلعوں کی مانند مضبوط ہیں اور جو وہاں حملہ کر سکتا ہے اس نے پراپيگنڈا مہم ميں ایک زبردست کاميابی حاصل کی ہے۔ کيونکہ پاکستانی حکومت اس وقت شدت پسندوں کے خلاف جنگ ميں کاميابياں حاصل کر رہی ہے ، اس لئے يہ شدت پسند فوج پر نہيں بلکہ فريق مخالف کے کمزور حصے پر حملے کر رہے ہيں يعنی عوام کی مدد کرنے والوں پر۔

ہفت روزہ Die Zeit لکھتا ہے کہ پاکستان طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ کے سلسلے ميں سنجيدہ ہے۔ اس نے اقوام متحدہ کے اسلام آباد کے دفتر پر حملے کے بعد اعلان کيا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے گا۔ Die Zeit تحرير کرتا ہے کہ پاکستان کا عزم حيرت انگيز ہے۔

Bildgalerie Nach den Wahlen Presseschau Türkei

برسوں تک پاکستان کو ايک دوہرا کھيل کھيلنے والا ملک سمجھا جاتا رہا جو دن کو امريکہ کا ساتھی اور رات کو طالبان کا پشت پناہ بنا ہوا تھا۔ سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرويز مشرف اس دوہرے کھيل کے ماہر تھے۔ اس وجہ سے طالبان مضبوط ہوتے گئے۔ ليکن پھر حالات بدل گئے۔ پاکستانی يہ سمجھ گئے کہ طالبان صرف افغانستان سے ملحقہ علاقوں ہی ميں خطرہ نہیں بلکہ وہ پورے ملک کے لئے خطرناک ہيں۔ حکومت، فوج اور عوام کی اکثريت ايک غير رسمی اتحاد کی شکل ميں اکھٹے ہوگئے۔ اس کے بعد سے پاکستانی فوج کی جنگ کو وسيع عوامی حمايت حاصل ہو چکی ہے۔

بھارت ميں کانگريس پارٹی نے مئی کے عام انتخابات کے بعد اصلاحات کا وعدہ کيا تھا ليکن چھ ماہ بعد يہ وعدہ فراموش کر ديا گيا ہے۔ اخبار Neue Zürcher Zeitung کے مطابق اس کی ايک وجہ يہ ہے کہ عالمی اقتصادی بحران کی وجہ سے حکومت کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کے بہت سے علاقوں ميں مانسون بارشيں نہ ہونے کی وجہ سے فصليں خراب ہوئي ہيں اور غذائی اشيا کی قيمتيں بہت بڑھ گئی ہيں۔ بھارت کی آدھی آبادی اب بھی غربت سے نچلی سطح کی زندگی گذار رہی ہے۔ بنيادی مسئلہ يہ ہے کہ رياست غريبوں کے لئے جو امدادی رقوم مہيا کرتی ہے اس کا بڑا حصہ کرپٹ اور بدعنوان سياستدانوں اور افسران کی جيبوں ميں منتقل ہوجاتا ہے۔ اس لئے دفتری نا اہلی اور کرپشن پر قابو پائے بغير بہتری ممکن نہيں ہے۔