1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیا اور جرمن پریس

جنوبی ایشیا کے حالات و واقعات پر جرمن زبان کے پریس کے تبصرے اور جائزے۔

default

چند روز قبل پاکستانی صوبہء پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو، جو حکمران پیپلز پارٹی کے ایک سرکردہ رہنما اور صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی بھی تھے، اسلام آباد میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ مقتول گورنر نے ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا تھا، جسے توہینِ رسالت کے الزام میں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ اخبار ’فرانکفرٹر الگمائنے‘ لکھتا ہے:

مقتول گورنر ایک آزاد خیال سیاستدان تھے، جنہوں نے مغربی طرزِ زندگی اپنا رکھا تھا اور جن کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ زیادہ مذہبی نہیں ہیں۔ اُنہوں نے تحفظ ناموسِ رسالت کا قانون منسوخ کیے جانے کا مطالبہ کیا تھا اور اِس طرح اسلام پسندوں کو اپنا دشمن بنا لیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ قتل اِس ملک کو اور زیادہ غیر مستحکم بنا دے گا۔ یہ قتل ایک ایسے وقت پر ہوا ہے، جب زرداری کی پی پی پی کی قیادت میں قائم حکومت ایک شدید بحران سے دوچار ہے۔

اِسی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے برلن کے اخبار ’ٹاگیز سائی ٹنگ‘ نے لکھا ہے کہ حکمران پیپلز پارٹی اپنی ایک اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم کی حمایت سے محروم ہو چکی ہے اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اب کسی اکثریت کے بغیر حکومت کر رہے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے:

اِس حکومتی بحران کے نتیجے میں اب پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ یہ بات نظر آئے گی کہ قومی اسمبلی اِس مسلمان ملک کے بڑے مسائل کے حل کے لیے کوئی اہم فیصلے نہیں کر سکے گی۔ دوسری جانب اِس حکومت کے جلد خاتمے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت یعنی دو مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ کو بظاہر اِس وقت حکومت کی ذمہ داریاں سنبھالنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اِس جماعت کے اندرونی حلقوں کے مطابق نواز شریف حکومت میں اپنی واپسی کی مہم شروع کرنے سے پہلے ابھی کچھ انتظار کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی طور پر فیصلہ کن اہمیت کے حامل صوبے پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ نون کو اکثریت حاصل ہے اور زرداری کے مقرر کردہ گورنر کی موت کے نتیجے میں شریف کی جماعت اور زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔

Pakistan Gouverneur Salman Taseer ermordet

مقتول گورنر سلمان تاثیر ایک آزاد خیال سیاستدان تھے، جنہوں نے مغربی طرزِ زندگی اپنا رکھا تھا اور جن کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ زیادہ مذہبی نہیں ہیں: فرانکفرٹر الگمائنے

اور پاکستان کے حکومتی بحران ہی پر تبصرہ کرتے ہوئے اخبار ’زوڈ ڈوئچے‘ لکھتا ہے: پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی بینائی غالباً متاثر ہو چکی ہے۔ اُدھر اُن کی پیپلز پارٹی مخلوط حکومت میں اپنے ایک اہم اتحادی سے محروم ہو گئی اور اِدھر وہ کہہ رہے تھے کہ ’مجھے تو کوئی بحران نظر ہی نہیں آ رہا‘۔ اب یہ حکومت پارلیمان میں اپنی اکثریت کھو چکی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس غیر مستحکم پاکستان میں اب اپوزیشن باقی ماندہ مخلوط حکومت کو اپنی مرضی سے جدھر چاہے ہانک سکتی ہے، حالانکہ اُس کے پاس بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بقا کو درپیش خطرے سے بچنے کے لیے کوئی نسخہ نہیں ہے۔ یہ خطرہ اب بھی انتہا پسندوں کی جانب سے لاحق ہے حالانکہ پاکستان کے سیاستدان ایک دوسرے کو ہی کمزور کرنے اور مشکوک سودے بازیوں میں ہی مصروف ہیں۔ اصل حقیقت، جس کا گیلانی ذکر نہیں کرنا چاہتے، یہ ہے کہ حکومت تیزی سے پاتال کی طرف جا رہی ہے۔

اور تجارتی اخبار ’ہانڈلز بلاٹ‘ کا تبصرہ ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی مخلوط حکومت میں انتشار نے پاکستان کی ابتر اقتصادی صورتِ حال اور معاشی زوال پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی ہے۔ اخبار کے مطابق:

گیلانی حکومتی امدادی رقوم سے فراہم کیے جانے والے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اپنے اہم ترین حکومتی ساتھی سے محروم ہوئے ہیں حالانکہ یہ اضافہ ضروری تھا۔ پاکستان عملاً دیوالیہ ہو چکا ہے۔ معاشی بحران کی اصل وجہ ٹیکسوں کا نظام ہے، جس میں شرم ناک طور پر امیر جاگیردار طبقے کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا گیا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کو قرضے دینے والے بیرونی ممالک اور ادارے ٹیکسوں کے شعبے میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاہم حکومت جاگیردار طبقے سے ڈرتی ہے اور اب اُسے اِس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑا ہے۔ عوام جب یہ دیکھتے ہیں کہ امیروں کو ٹیکس دینے سے بچایا جا رہا ہے تو اُنہیں اپنے ساتھ ناانصافی ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ طالبان یقیناً اِس بے چینی کو بھی اپنے حق میں استعمال کرنا جانتے ہوں گے۔

پاکستان کے بعد بھارت، جہاں گزشتہ سال عالمی رہنماؤں کا تناتا بندھا رہا۔ سولہ ملین آبادی والے دارالحکومت نئی دہلی کا دورہ کرنے والے عالمی رہنما بھارت کی ابھرتی ہوئی معیشت کو سراہنے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوششیں کرتے رہے۔ اِس سال جرمن چانسلر انگیلا میرکل بھی بھارت کا دورہ کریں گی۔ اِس حوالے سے برلن کا اخبار ’ٹاگیز اشپیگل‘ لکھتا ہے:

بھارت میں عالمی سربراہان کی دلچسپی خالص معاشی مفادات لئے ہوئے ہے۔ صنعتی ممالک اپنی اپنی مفلوج معیشتوں کو پھر سے تحریک دینے کے لئے نئی منڈیوں کی تلاش میں ہیں۔ جہاں امریکہ بدستور عالمگیر اقتصادی بحران کے اثرات سے نمٹنے میں اور یورپ اپنی کرنسی کو نقصان پہنچانے والے ممالک کے ساتھ الجھنے میں مصروف ہے، وہاں بھارت حیرت انگیز تیز رفتاری کے ساتھ عالمگیر معاشی بحران کے اثرات پر قابو پانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اگرچہ بھارت ابھی بھی چین سے پیچھے ہے لیکن کوئی بھی ملک اب بھارت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ مستقبل میں 1.2 ارب آبادی والا بھارت چین کے بعد دُنیا کی دوسری بڑی منڈی ہو گی۔ پھر یہ ملک اپنے اقتصادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے دیو ہیکل منصوبے بنا رہا ہے اور بڑے پیمانے پر اسلحہ بھی خریدنا چاہتا ہے۔ اِس معاشی ترقی میں سے اپنا حصہ لینے کے لیے مغربی دُنیا بھی عاجزی کے ساتھ بھارت کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے۔ تاہم بھارت کے غربت اور بھوک کے شکار شہریوں کو اِس اقتصادی معجزے میں سے کوئی حصہ ملتا نظر نہیں آتا۔


رپورٹ: امجد علی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM