1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیاء اور جرمن پریس

گزشتہ ہفتہ کے دوران جرمن زبان کے اخبارات میں، جنوبی ایشیا کے حالات و واقعات کے بارے میں شائع ہونے والی، رپورٹوں اور تبصروں پر مشتمل ایک جائزہ،

default

جرمن اخبارات اور جرائد: فائل فوٹو

گزشتہ ہفتہ کے دوران جرمن زبان کے اخبارات میں جتنے بھی تبصرے اور جائزے شائع ہوئے، اُن میں سے زیادہ تر کا موضوع پاکستان تھا۔ اس کا پس منظر امریکہ پر گیارہ ستمبر 2001 کے وہ دہشت گردانہ حملے ہیں جن کے جمعہ کو ٹھیک آٹھ سال پورے ہو گئے تھے۔

جرمن جریدے دی ویلٹ نے "پاکستان اور نائن الیون" کے عنوان سے شائع کردہ اپنے ایک تفصیلی جائزے میں لکھا کہ امریکہ پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد ہندو کش کے علاقے میں نیٹو کے مشن کا مقصد یہ تھا کہ افغانستان کی، طالبان اور القاعدہ کے خلاف اپنا دفاع کر سکنے میں مدد کی جائے۔ لیکن اس جریدے کے مطابق یہ اس لئے ایک سراب ہے کہ افغانستان میں طالبان پاکستان سے جاتے ہیں، القاعدہ پاکستان میں موجود ہے، اور پاکستان میں کئی اہم کردار ان دونوں کو بنیاد بنا کر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

WM Fußball Deutschland Italien Reaktionen Presse

جرمن اخبارات و رسائل کی ایک اور فائل فوٹو

سوئٹزرلینڈ میں زیورچ سے شائع ہونے والے جریدے Neue Zürcher Zeitung نے لکھا کہ 1947میں تقسیم ہند کے بعد سے بھارت نے اب تک خود کو کسی نہ کسی حد تک کام کر سکنے والا جمہوری نظام ثابت کر دیا ہے، اور وہاں معاشی ترقی کی تیز رفتاری کے باعث عالمی سطح پر اس کی عزت میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں فوجی آمروں اور بد عنوان سول حکومتوں نے معیشت کو نقصان پہنچایا اور آج پاکستان کو شدید قسم کے سیاسی اور اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ زیورچ کے اس اخبار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برسوں میں جو نئے دہشت گرد گروہ سامنے آئے ہیں، وہ ریاست کے لئے سنجیدہ نوعیت کا خطرہ بن چکے ہیں۔ اسی لئے سیاسی ماہرین میں سے قنوطیت پسند پاکستان کو ایک ناکام ریاست قرار دینے لگے ہیں۔

Bildgalerie Nach den Wahlen Presseschau

جرمن اخبارات و رسائل کی ایک اور فائل فوٹو

بھارت کے بارے میں فرینکفرٹ سے شائع ہونے والے اخبار Frankfurter Rundschau نے لکھا ہے کہ بھارتی کمیونسٹ سیاستدان ملکی صنعت کے حوالے سے اب اس فراخدلی سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے جارہے ہیں جو ماضی میں سالہا سال تک دیکھنے میں آئی۔ اس کا ایک ثبوت یہ کہ مغربی بنگال میں حکومت نے Wipro اور Infosys جیسے اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر ریاست میں اپنے یونٹ قائم کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

بھارت ہی کے بارے میں اقتصادی جریدے فنانشل ٹائمز جرمنی نے لکھا کہ بھارت میں موبائل فون کمپنیوں کے گاہکوں میں ہر مہینے قریب 14.5ملین کا اضافہ ہو رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کا یہ ملک دنیا بھر میں ٹیلی کمیونیکیشن کی سب سے تیز رفتاری سے ترقی کرنے والی منڈی ہے۔ اس کے باوجود بھارت میں موبائل فون کی مارکیٹ میں یہ پھیلاؤ اس لئے کم ہوتا نظر نہیں آتا کہ وہاں کی دیہی آبادی میں ابھی بھی صرف بارہ فیصد افراد کے پاس اپنا موبائل فون موجود ہے۔

ملتے جلتے مندرجات