1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی ایشیاء اور جرمن پریس

جنوبی ايشيا کے حالات و واقعات پر جرمن زبان کے پريس کے جائزوں پر مشتمل رپورٹ

default

جرمن اخبارات

سب سے پہلے تذکرہ ہے پاکستان کا۔ ہفت روزہ Der Spiegel تحريرکرتا ہےکہ پاکستانی فوج عسکريت پسند طالبان کے خلاف جنگ ميں بہت زيادہ کاميابياں حاصل نہيں کر پائی ہے۔ شدت پسندآزادی سے شہروں میں گھومتے پھرتے ہیں۔کسی حملے کا خطرہ محسوس کرتے ہی وہ غائب ہوجاتے ہيں اور بيت ا للہ محسود ابھی تک ان کا قائد ہے۔ پاکستان ميں طالبان اس قدر طاقتور ہوگئےہیں کہ وہ بالادستی کے لئے ايک دوسرے سے جنگ لڑتے ہيں۔ روزانہ ہی وہ پولیس اور فوجيوں پر حملے کر کے انہیں قتل کررہے ہیں اور آئے دن خودکش حملہ آور بازاروں اور منڈيوں يا مسجدوں ميں خود کو دھماکے سے اڑا رہے ہيں۔

صرف اس سال ہی وہ شمال مغربی سرحدی صوبے ميں دو سو اٹھارہ حملے کر چکے ہيں۔ اس دوران افغانستان میں جنگ کے ہاتھوں مرنے والے شہريوں کے مقابلے میں پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں ميں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ چکی ہے۔ پاکستان، دہشت گردی کی علامت بن چکا ہے جو دنيا کے لئے خطرہ ہے۔

Symbolbild deutsche Presseschau Presse

جرمن اخبارات و جرائد

ڈیئر اشپیگل مزید لکھتا ہے کہ سوات کی وادی ميں پاکستانی فوج طالبان کے ايک قائد کے خلاف دوماہ سے زائد عرصے سے جنگ لڑ رہی ہے۔ اس کے جواب ميں طالبان جنگ کا دائرہ بڑھا رہے ہيں۔ وہ اپنے دہشت گردانہ حملوں سے، کشمير سے لے کر کراچی تک خون کی ايک لمبی لکير کھينچ رہےہيں۔ پاکستان بکھر نہيں رہا ہے اسے تشدد کھائے جارہا ہے۔وہ اس خوف سےکھوکھلا ہوتا جارہا ہےکہ کوئی بھی اگلے دن دہشت گردی اور تشدد کا نشانہ بن سکتا ہے۔

بھارت ميں بہت سے سياستدان نئی امریکی حکومت کو شک کی نظر سے ديکھ رہے ہیں۔ سابق صدر بش کی اس کوشش کو يہاں پسند کیا گیا تھا کہ بھارت کو چين کے مقابلے ميں کھڑا کیا جائے، ليکن صدر اوباما کی، ايٹمی اسلحے سے پاک دنيا کی تجويز پر نئی دہلی ميں بے چينی پائی جاتی ہے کيونکہ اس سے پرامن ايٹمی استعمال کے اس معاہدےکو خطرہ ہو سکتا ہے جو جارج بش کے دور ميں امريکہ اور بھارت کے مابين طے پايا تھا۔ اخبار Berliner Zeitung اپنے تبصرے ميں لکھتا ہے:

Symbolbild Presseschau Presse Deutsch

مختلف جرمن اخبارات کے نام

بھارت کے پہلے وزير اعضم جواہر لال نہرو ماسکو کے حامی تھے اور انہوں نے ملک ميں مرکزی منصوبہ بندی والا اقتصادی نظام، جمہوريت کے تحت رائج کيا۔ امريکہ بھارت کو نظرياتی حريف سمجھتا تھا، اس لئے اس نے پاکستان کو مالی امداد اور اسلحہ ديا۔ تاہم، 1965 ميں پاکستان نے، امريکہ سے حاصل کئے ہوئے ہتھياروں کی مدد سے بھارت پر حملہ کرديا جس سے امريکہ حيران رہ گيا اور اس نے کئی برسوں کے لئے پاکستان کو اسلحے کی فراہمی روک دی۔ اب زمانہ بدل چکا ہے۔اگرچہ امريکی وزير خارجہ نے اپنے بھارت کے دورے ميں کئی بار کہا کہ امريکہ پاکستان کو مدد دے گا، ليکن انہوں نے يہ تجويز بھی پيش کی کہ امريکی اسلحہ ساز فرمز بھارت کو مستقبل ميں ہتھيار فراہم کرسکتی ہيں ۔شرط صرف يہ ہے کہ بھارت امريکہ کہ يہ چھان بين کرنے کی اجازت دے کہ يہ ہتھيار کسی تيسرے ملک کے کو نہيں پہنچنے پائيں گے۔

بھارتی دارا لحکومت ميں، حتمی استعمال کی نگرانی کے معاہدےکے ذريعہ امريکی فرموں کو کئی عشروں کی پابندی کے بعد دوبارہ جديد ترين اسلحہ بھارت کو فروخت کرنے کا موقع ملا ہے۔ بھارت اگلے برسوں کے دوران اپنی پرانے سوويت اسلحے سے ليس مسلح افواج کو جديد بنانے پر تيس تا چاليس ارب ڈالر خرچ کرنا چاہتا ہےاور فوجی سامان کے علاوہ امريکہ کی لاک ہيڈ مارٹن فرم اسے ايف سولہ فالکن فراہم کرسکتی ہے جو اسی قسم کے پاکستانی طياروں پر واضح برتری رکھتے ہيں۔