1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی اوسیتیا اور ابخازیہ میں امریکی مبصرین بھی نگرانی کریں گے

یورپی یونین کے ورزائے خارجہ نے جارجیا کے علیحدگی پسند علاقوں جنوبی اوسیتیا اور ابخازیہ میں فائر بندی کے معاہدے کی نگرانی کرنے کے لئے وہاں متعین یورپی یونین کے مشن کی مدت میں ایک سال کی توسیع کا اعلان کیا ہے ۔

default

ان مبصرین کو گزشتہ برس نگرانی کے لئے مقرر کیا گیا تھا

اس ‍ اعلان کے ساتھ ہی یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اس بات پر بھی متفق ہو گئے ہیں کہ جارجیا کی سرحدوں سے ملحق جنوبی اوسیتیا اور ابخازیہ کے علاقوں میں متعین یورپی یونین کے مشن میں امریکی مبصرین بھی شامل کئے جا سکتے ہیں۔ اس اعلان نے روس کے ریاستی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ابخازیہ اور جنوبی اوسیتیا کے علاقوں میں فائر بندی کی نگرانی کرنے کے لئے اکتوبر سن 2008ء میں تعینات کئے گئے اپنےمشن کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی متفقہ طور پر یہ اعلان بھی کیاگیا کہ مستقبل میں اس مشن میں غیر یورپی ممالک یعنی ترک اور امریکی مبصرین بھی شامل کئے جا سکتے ہیں۔ یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک سویڈن کے وزیر خارجہ کارل بِلٹ نے کہا: ’’ موسم گرما کے بعد کئی دیگر امور پر بات کی جائے گی جن میں غیر یورپی ممالک کے مبصرین کی ان متنازعہ علاقوں میں تعیناتی جیسے موضوعات بھی شامل ہو ں گے‘‘۔

EU Council in Brüssel

غیر یورپی مبصرین کو شامل کرنے کا فیصلہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں کیا گیا

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کی طرف سے اس اعلان کے بعد روسی خبر رساں اداروں نےوزارت خارجہ کےایک اعلی افسرکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان متنازعہ علاقوں میں متعین فائر بندی کی نگرانی کرنے والے یورپی یونین کے مشن میں امریکی مبصرین کی شمولیت سے ابخازیہ اور جنوبی اوسیتیا کے علاقوں میں تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ گزشتہ سال اگست کے مہینے میں روس نے جارجیا کے ساتھ ہونے والی چھ روزہ مختصر جنگ کے بعد جارجیا کے علیحدگی پسند علاقوں جنوبی اوسیتیا اور ابخازیہ کو آزاد ریاستیں تسلیم کر لیا تھا ۔ اس جنگ کے بعد ایک معاہدے کے تحت وہاں سرحدی علاقوں میں فائر بندی کی نگرانی کرنے کے لئے یورپی یونین نے 246 معائنہ کاروں کا ایک مشن روانہ کیا تھا۔

امریکی نائب صدر جو بائڈن کے حالیہ دورہ جارجیا کے دوران جارجیا کے صدر میخائل ساکاشویلی نے اپیل کی تھی کہ ان متنازعہ علاقوں میں فائر بندی کے معاہدے کی نگرانی کے لئے امریکی مبصرین بھی ان علاقوں میں تعینات کئے جائیں جو یہاں یورپی یونین کے مشن کے ہمراہ فائر بندی کے معاہدے کی نگرانی کریں۔ اس دوران جو بائڈن نے جارجیا کواپنےغیر مشروط تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا تھا : ’’ امریکی صدر باراک اوباما کی طرف سے مجھے یہاں بھیجنا دراصل ایک واضح پیغام ہے ، یہ پیغام تمام لوگوں کے لئے ہے جوسننا چاہیں یا نہیں کہ نہ صرف اس وقت امریکہ جارجیا کے ساتھ ہے بلکہ مستقبل میں بھی امریکہ جارجیا کے ساتھ رہے گا‘‘۔

دریں اثناء برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ بھی عندیہ دے چکے ہیں کہ ابخازیہ اور جنوبی اوسیتیا کےسرحدی علاقوں میں تعینات یورپی یونین کے نگران معائنہ کاروں کے ساتھ وہاں جلد ہی امریکی مبصرین بھی تعینات کئے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ : عاطف بلوچ

ادارت : عاطف توقیر