1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی امریکہ اور قابل تجدید توانائی

ارجنٹائن کے جنوبی علاقے Patagonien میں ہر وقت جس تیزی کے ساتھ ہوا گردش کرتی رہتی ہے ، دنیا کے شاید ہی کسی اور مقام پر اس شدت سے چلتی ہو گی۔

default

براعظم جنوبی امریکہ کے مغربی ساحل سے ٹھنڈی ہوا پہاڑی علاقوں سے گزرتی ہوئی مشرقی جانب کی گرم ہوا سے آ ٹکراتی ہے

براعظم جنوبی امریکہ کے مغربی ساحل سے ٹھنڈی ہوا پہاڑی علاقوں سے گزرتی ہوئی مشرقی جانب کی گرم ہوا سے آ ٹکراتی ہے اور وہ بھی 10 تا 12 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے۔ ہوا کی اس توانائی سے فائدہ اٹھانے کے لئے ارجنٹائن میں ونڈ پاور پلانٹس نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جرمن صنعت کار Lutz Kindermann کا اس بارے میں کہنا ہے:’’ قابل تجدید توانائی کے لحاظ سے لاطینی امریکہ ایک پھیلتی ہوئی منڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم جرمنی اور یورپ سے لائے ہوئے اپنے تجربات سے لاطینی امریکہ کی مدد کر سکتے ہیں تا کہ وہاں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں پیش رفت کی جا سکے۔‘‘

Kindermann کی فرم WPD ونڈ پاور پلانٹس کی تنصیبات میں خاصی مہارت رکھتی ہے۔ ان کے خیال میں اگلے دو عشروں کے دوران بیرونی فرمیں لاطینی امریکہ کے توانائی کے شعبے میں کئی بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کریں گیں۔ انرجی ایکسپرٹ Sergio Restrepo Isaza کا کہنا ہے:’’ میرے خیال میں اب تک بہت کم کوشش کی گئی ہے۔لاطینی امریکہ کے توانائی کے شعبے میں قابل تجدید توانائی کی جانب انتہائی کم توجہ دی گئی ہے۔ حکومتوں کو سرکاری اعانت کے ذریعے اس شعبے کے فروغ میں مدد دینا ہو گی تا کہ وہ ادارے جو تکنیکی مہارت رکھتے ہیں، یہاں سرمایہ کاری کی جراٴت کر سکیں۔‘‘

اس وقت ارجنٹائن جیسے ممالک کو توانائی کی قلت کا مسلئہ درپیش ہے۔ اس میں حکومت کی ناقص پالیسیوں کا بھی عمل دخل ہے۔ جو بیرونی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کا باعث ہیں۔

Kindermann کا کہنا ہے:’’ ہمارے راستے میں مالیاتی اور قانونی شعبوں کی طرف سے اکثر رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔ ان مشکلات کے باوجود وہاں سرمایہ کاری کی کشش موجود ہے۔ خاص طور پر ارجنٹائن میں ہوا ئی قوت کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے امکانات خاصے روشن ہیں۔‘‘

بولیویا میں بھی اگرچہ گیس اور تیل کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں لیکن طویل المدتی حکمت عملی کے تحت یہاں بھی قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت باقی رہے گی۔