1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی افریقی صدر جکیب زوما کا دورہء بھارت

جنوبی افریقی صدر جکیب زوما نے جمعہ کو نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے ساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں کے مابین تجارتی تعلقات کو م‍زید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

default

صدر زوما نے، جن کا موجودہ دورہء بھارت ان کا صدر کے طور پر براعظم ایشیا کی کسی ریاست کا پہلا سرکاری دورہ ہے، بھارت کو ایک سٹریٹیجک پارٹنر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 7.5 بلین ڈالر سالانہ سے بڑھ کر دس بلین ڈالرتک ہو جائے۔

جنوبی افریقی صدر اور بھارتی وزیرِاعظم کے مابین کئی دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں اصلاحات، عالمی معیشت اور تحفظ ماحول جیسے موضوعات مرکزی اہمیت کے حامل رہے۔

Indien Ambani Brüder

گزشتہ چند برسوں میں بھارت اور جنوبی افریقہ کی کمپنیوں میں تعاون بڑھتا ہوا دکھائی دیا ہے

اس سے پہلے جمعرات کو ممبئی میں بھارتی تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے جیکب زوما نے کہا تھا کہ دونوں ممالک ابھرتی ہوئی معیشتیں ہیں اور مالیات، ٹرانسپورٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں ایک دوسری کی بہت مدد کر سکتی ہیں۔

بھارت اور جنوبی افریقہ نے برازیل کے ساتھ مل کر ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ایک غیر رسمی گروپ بنا رکھا ہے، جو اقوامِ متحدہ اور آئی ایم ایف سمیت تمام بین لاقوامی اداروں میں اپنے جیسے ممالک کے لئے زیادہ نمائندگی کا خواہش مند ہے۔

جیکب زوما ایک ایسے وقت میں بھارت کا دورہ کر رہے ہیں جب دونوں ممالک کی کمپنیوں میں دوطرفہ تعاون تیزی سے بڑھتا دکھائی دیتا ہے اور بھارتی موبائل فون کمپنی ریلائنس کمیونیکیشن جنوبی افریقہ کی سب سے بڑی موبائل فون کمپنی ساؤتھ افریقہ MTN کے ساتھ ممکنہ انضمام کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں اور بھارت کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے مہاتما گاندھی بھی اپنے وطن آنے سے پہلے کئی سال تک جنوبی افریقہ میں مقیم رہے تھے۔ بھارت جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کی حامی، ماضی میں سفید فام اقلیت کی حکومت کا بھی سخت مخالف تھا اور نئی دہلی کے 1993 تک جنوبی افریقہ سے سفارتی تعلقات بھی نہیں تھے۔ یہ تعلقات نسلی امتیاز کے دور کے خاتمے پر قائم ہوئے تھے۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: مقبول ملک

DW.COM