1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

جنوبی افریقہ کے خلاف چوتھا میچ، پاکستان کی شاندار فتح

پاکستان نے کل دبئی میں کھیلے گئے چوتھے وَن ڈے میچ میں جنوبی افریقہ کو ایک وکٹ سے شکست دے کر پانچ میچوں کی سیریز دو دو سے برابر کر دی ہے۔ پاکستان کی اِس کامیابی میں یونس خان کی 73 رنز کی اننگز نے اہم کردار ادا کیا۔

default

پاکستان کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں یہ ڈے اینڈ نائٹ میچ جیتنے کے لئے 275 رنز کا ہدف ملا تھا۔ جنوبی افریقہ نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ پچاس اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 274 رنز کی خاصی مستحکم اننگز کھیلی، جس میں کپتان گریم اسمتھ نے ایک بار پھر ذمہ داری کے ساتھ کھیلتے ہوئے 92 رنز بنائے۔ تاہم پاکستان کے خلاف کھیلتے ہوئے جنوبی افریقہ کے بالرز چوٹی کے تقریباً تمام پاکستانی بلے بازوں کو آؤٹ کرنے کے باوجود آخری لمحات میں زیادہ اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے۔

اگرچہ پاکستانی اننگز میں 115 گیندوں کا سامنا کرنے والے یونس خان کی نصف سچری نے، جس میں اگرچہ صرف ایک چوکا شامل تھا، بہت اہم کردار ادا کیا لیکن اِس کامیابی کا اصل سہرا آخر میں کھیلنے کے لئے آنے والے بلے بازوں ذوالقرنین حیدر (19 رنز ناٹ آؤٹ) اور وہاب ریاض (18) کے سر جاتا ہے، جنہوں نے 9 ویں وکٹ کی پارٹنر شپ میں 28 قیمتی رنز بنائے۔

Pakistan Sport Cricket Abdul Razzaq

عبدالرزاق نے اس میچ میں 33 رنز بنائے

اِس سے پہلے جب عبدالرزاق 33 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے تو ابھی پا کستان کو اپنا ہدف حاصل کرنے کے لئے مزید 31 رنز درکار تھے تاہم حیدر اور ریاض جم کر کھیلے اور ہدف کے قریب پہنچ گئے۔ آخری تین گیندوں پر ابھی ہدف میں سے تین مزید رنز باقی تھے، جب وہاب ریاض رَن آؤٹ ہو گئے۔ اِس موقع پر ذوالقرنین حیدر نے اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور وین پارنل کی ایک گیند پر دو رنز بنا لئے۔ اگلی گیند پر ایک رنز اسکور کرتے ہوئے حیدر نے پاکستان کے لئے ون ڈے سیریز کی اِس دوسری فتح کو مکمل کر دیا، جس پر اسٹیڈیم میں موجود پچیس ہزار شائقین نے زبردست داد دی۔ پاکستانی اننگز میں کپتان شاہد آفریدی کا کردار بھی اہم رہا، جنہوں نے 29 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے چار چوکوں کی مدد سے 25 رنز بنائے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے کامیاب ترین بالر مورن مورکل رہے، جنہوں نے اڑتالیس رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں۔ سیریز کا پانچواں اور فیصلہ کن میچ پیر کو کھیلا جائے گا۔

رپورٹ: امجد علی / خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس