1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی افریقہ: کالے جادو کا الزام اور انسانی حقوق کی پامالی

جنوبی افریقہ میں کالا جادو کرنے کے الزام میں بے شمار افراد قتل ہو چکے ہیں یا ان پر حملے کیے جا چکے ہیں۔ کالے جادو کا معاملہ جنوبی افریقہ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

ہیلینا کا گاؤں ان افراد کے لیے خاصا محفوظ ہے، جن پر ان کے اپنے علاقوں میں کالا جادو کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہو اور انہیں اپنی جان بچانے کے لیے علاقے سے فرار ہونا پڑا ہو۔ کچھ افراد کو اس لیے بھی اپنے علاقے چھوڑنا پڑتے ہیں، کیوں کہ ان پر یہ الزام عائد کر دیا جاتا ہے کہ ان پر کوئی ’سایہ‘ ہے یا ان میں کوئی چڑیل آ بسی ہے۔

ہیلینا کا گاؤں جنوبی افریقہ کے شمالی صوبے لیمپوپو میں واقع ان متعدد دیہات میں سے ایک ہے، جہاں سن 1991ء میں کالے جادو کے الزامات کا سامنا کرنے والے متاثرہ افراد کو پناہ دینے کے لیے مہاجر بستیاں قائم کی گئی تھیں۔ تاہم ایک خوف ہے، جو یہاں ہر وقت محسوس کیا جاتا ہے۔

اس علاقے کے مکینوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی پی اے سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے علاقے چھوڑنے اور یہاں آ کر آباد ہونے کی داستانیں سنائیں۔

اس گاؤں میں رہنے والی ایک 72 سالہ خاتون نے بتایا کہ وہ سن 1994ء میں یہاں آئی تھی، کیوں کہ ان کے گاؤں میں ایک ماں اور اس کا بچہ ہلاک ہو گئے تھے اور ایک مقامی روایتی ’بزرگ‘ نے ایک آئینے میں دیکھ کر کہہ دیا تھا کہ ان ہلاکتوں کی وجہ دس چڑیلیں ہیں۔ ’’میں خود بھی لوگوں پر سایے کا علاج کرتی تھی، تاہم مجھ پر الزام عائد کر دیا گیا کہ ان دس چڑیلوں میں سے ایک میں بھی ہوں۔ میرے خیال میں یہ سب میرے شوہر کے بھائی کی وجہ سے ہوا، جو میرے کام سے حسد کرتا تھا۔‘‘

اس خاتون نے مزید بتایا، ’’اس کے بعد علاقے کے لوگوں نے پٹرول اور لکڑیاں جمع کر لیں کہ ہمیں آگ لگا دیں، تاہم کسی نے پولیس بلا لی۔ اس پر گاؤں کے لوگوں نے ہمیں جلایا تو نہیں تاہم ہمیں گاؤں سے نکال دیا گیا۔‘‘

اس خاتون کا کہنا تھا کہ اس کے گھر کو جلا کر راکھ کر دیا گیا اور اسے اپنی جان بچانے کے لیے علاقے سے فرار ہونا پڑا اور پھر وہ ہیلینا نامی گاؤں میں آ کر آباد ہو گئی۔

ہیلینا کے گاؤں میں 52 مکانات ہیں اور یہ افراد زراعت کے ذریعے اپنے پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں۔ تاہم جنوبی افریقہ میں ہیلینا جیسے کئی دیہات ہیں، جہاں کالے جادو اور سایے یا چڑیل ہونے کے الزامات عائد کر کے درجنوں افراد ہلاک اور بے گھر ہو چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی ایک مقامی تنظیم SAPRA نے سن 2014ء میں ایسے ہی الزامات کے تحت ہونے والی دس ہلاکتوں سے متعلق ایک دستاویز تیار کی ہے۔ یہ وہ ہلاکتیں ہیں جو مقامی میڈیا پر رپورٹ کی گئیں، تاہم اس تنظیم کا کہنا ہے ایسے معاملات میں ہونے والی اصل ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ڈی پی اے کے مطابق ہر برس قریب ایک ہزار سے زائد افراد ایسے الزامات کے بعد تشدد، جلا دیے جانے، قتل کر دیے جانے یا علاقے سے بے دخل کر دیے جانے کے واقعات کا شکار ہوتے ہیں۔